جبری مذہبی تبدیلی، اصل ملزم گرفتار

آگرہ 16 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے شہر آگرہ میں حال ہی میں 100 افراد کا مبینہ طور پر زبردستی مذہب تبدیل کروانے کے اصل ملزم نندکشور بالمکی کو آج یہاں گرفتار کرلیا گیا جب اُس نے خود کو پولیس کے حوالہ کیا تھا۔ آگرہ پولیس نے کہاکہ بالمکی نے آج صبح ہری پربت پولیس اسٹیشن میں خود کو سپرد کیا۔ بالمکی اور دھرما جاگرن منچ کے خلاف 9 ڈسمبر کو ایک ایف آئی آر درج کیا گیا تھا۔ بالمکی اس تنظیم کا کنوینر ہے جس پر ان 100 افراد کی جبری مذہبی تبدیلی کا الزام ہے۔ زبردستی مذہب تبدیل کروائے جانے والے ان 100 افراد میں اکثر مسلمان مرد و خواتین اور بچے تھے جو آگرہ کے سلم علاقوں میں رہتے تھے۔ جنھیں دھرما جاگرن منچ نے ایک تقریب میں ہندو رسوم اور پوجا کے ذریعہ ہندو بنایا تھا۔ ایک شخص اسماعیل جو خود بھی مذہب تبدیل کروانے جانے والے افراد میں شامل تھا۔ پولیس میں اس واقعہ کی شکایت درج کروائی تھی جس کی بنیاد پر پولیس نے نندکشور بالمکی اور اس کی ہندو تنظیم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا تھا۔ پولیس نے بالمکی کو گرفتار کرنے کیلئے کئی مقامات پر دھاوے کئے تھے اور اس کا اتہ پتہ بتانے والوں کے لئے 12000 روپئے کے انعام کا اعلان کیا تھا۔ بالمکی 14 ڈسمبر کو پولیس کو چکمہ دیتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اس کے بیٹے راہول اور ایک رشتہ دار کرشنا کمار کو ضلع ایٹا میں واقع ایک گیسٹ ہاؤز سے گرفتار کیا گیا تھا۔