نئی دہلی۔ 16 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس اور سماج وادی پارٹی کی زیرقیادت اپوزیشن نے اپنا جارحانہ موقف برقرار رکھتے ہوئے تبدیلی مذہب کے مسئلہ پر راجیہ سبھا میں آج زبردست احتجاج کیا جس کی وجہ سے دوپہر سے قبل سیشن کی کارروائی دو مرتبہ ملتوی کرنا پڑا۔ وہ اس مسئلہ پر وزیراعظم نریندر مودی سے جواب کا مطالبہ کررہے تھے۔ ٹاملناڈو سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے ماسواء سارے اپوزیشن نے ایوان کے وسط میں پہنچ کر نعرے بازی شروع کردی جس کی وجہ سے نائب صدرنشین پی جے کورین کو ایوان کی کارروائی شروع ہوئے اندرون 15 منٹ اسے ملتوی کرنا پڑا۔ جیسے ہی دوبارہ کارروائی شروع ہوئی، سیتا رام یچوری (سی پی آئی ایم) نے کہا کہ حکومت نے کل یہ بیان دیا تھا کہ کرسمس کے دن اسکولس کھلے رکھنے کیلئے کوئی احکامات جاری نہیں کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس اسکولس کو جاری کردہ سرکیولر کی ایک نقل موجود ہے جس میں سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی سالگرہ منانے کے لئے کرسمس کے دن ’’بہتر حکمرانی‘‘ پر تحریری مقابلے منعقد کئے جارہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس، سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، جنتادل (یو) اور ٹی ایم سی ارکان بھی احتجاج کرتے ہوئے اپنی نشستوں سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور وزراء سے بیان دینے کا مطالبہ کرنے لگے۔ اپوزیشن ارکان نے کہا کہ یہ فرقہ وارانہ ماحول مکدر کرنے کی کوشش ہے۔ یہ ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور نعرے لگانے لگے کہ ’’دھرم کا سودا بند کرو‘‘۔ سرکاری بینچس نے ایوان کی کارروائی میں بار بار خلل اندازی پر اعتراض کیا۔ منسٹر آف اسٹیٹ پارلیمانی اُمور مختار عباس نقوی نے کہا کہ حکومت اس مسئلہ پر فوری مباحث کے لئے تیار ہے لیکن اپوزیشن فرار اختیار کررہی ہے۔ پی جے کورین کی ایوان کی کارروائی کو بحال کرنے کی کوششیں ناکام رہی جس کی وجہ سے کارروائی 15 منٹ کیلئے ملتوی کرنی پڑی۔ جب ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو یہی صورتحال دیکھی گئی۔ کورین نے نریش اگروال (ایس پی) جنہوں نے نوٹس دی تھی، بات کرنے کی اجازت دی لیکن جیسے ہی انہوں نے اپنی بات شروع کی، سرکاری بینچس نے چیخ و پکار شروع کردی۔ اس کے نتیجہ میں اپوزیشن ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ کر نعرے لگانے لگے۔ وزیر ٹیلیکام روی شنکر پرساد نے کہا کہ حکومت مباحث کیلئے تیار ہے لیکن اپوزیشن فرار اختیار کررہی ہے اور انہوں نے احتجاج کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا۔کورین نے کہا کہ پارلیمنٹ مباحث کیلئے ہے، نعرے بازی کیلئے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جب بحث کیلئے تیار ہیں تو پھر آپ اتفاق کیوں نہیں کرتے۔