’’فتنہ تبدیلی مذہب و مسلمانوں کی ذمہ داری‘‘ پر جلسہ ، مولانا عبدالرحیم قریشی و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔ 21 ڈسمبر (سیاست نیوز) جبر، دباؤ اور لالچ کے ذریعہ تبدیلی مذہب میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے، لیکن مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ کبھی انسداد تبدیلی مذہب قانون کی حمایت نہ کرے چونکہ ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کے ذریعہ یہ نعرہ لگوانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ تبدیلی مذہب پر پابندی عائد ہونی چاہئے۔ مولانا عبدالرحیم قریشی صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت نے آج فتنہ تبدیلی مذہب اور مسلمانوں کی ذمہ داری کے عنوان سے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دل خوش کن نعروں اور قوانین کے ذریعہ بالواسطہ طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی سازش تیار کی جارہی ہے جس سے ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں کو دین سے دور کرنے کیلئے کوششیں کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ آج جو باتیں آر ایس ایس اور ’’گھر واپسی‘‘ کی بات کرنے والے کررہے ہیں، وہ باتیں کفاران مکہ نے بھی کی تھیں۔ وہ بھی یہی کہا کرتے تھے کہ انسان کو اپنے باپ دادا کے دین پر ہونا چاہئے۔ مولانا عبدالرحیم قریشی نے بتایا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی منظم سازش کے ذریعہ مسلمانوں کو اس بات کیلئے مجبور کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ خود آگے آئیں اور تبدیلی مذہب پر پابندی کا مطالبہ شروع کریں۔ اس کا ثبوت آج کے اخبارات میں شائع شدہ موہن بھاگوت اور امیت شاہ کا بیان ہے جوکہ دو متضاد باتیں سامنے لانے کیلئے کافی ہیں۔ موہن بھاگوت کا یہ کہنا ہے کہ آر ایس ایس تبدیلی مذہب کروائے گی جبکہ امیت شاہ یہ کہہ رہے ہیں کہ تبدیلی مذہب پر روک لگانے کیلئے بی جے پی قانون سازی کے حق میں ہیں۔ اس جلسہ عام سے مولانا نصیرالدین، مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم ، جناب منیرالدین مجاہد، جناب مشتاق ملک، جناب مجاہد ہاشمی، جناب محمد اظہرالدین کے علاوہ دیگر نے مخاطب کیا۔ جلسہ عام کی صدارت مولانا پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے کی۔ مولانا عبدالرحیم قریشی نے اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آگرہ کا واقعہ درحقیقت ہندوستانی شہریت کا لالچ دے کر کروائی گئی تبدیلی مذہب کا واقعہ ہے جس کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوف زدہ ہونے کے بجائے اُمت مسلمہ کو حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ مولانا پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ اس فتنہ کے سدباب کیلئے یہ ضروری ہے کہ ملت اسلامیہ میں پھیلے اضطراب، فکر و بے چینی کو دور کرنے اور ہندوستانی مسلمانوں کی قوت ارادی کو مستحکم کرنے کیلئے تحریک چلائی جانی چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں ایسے حالات پہلی مرتبہ پیش نہیں آئے ہیں بلکہ 1857ء کے بعد انگریزوں کی زیرتسلط حکومت نے عیسائی مشنریوں کو سرگرم کردیا تھا، لیکن اس وقت بھی علماء نے ان کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کا مقابلہ کیا اور مسلمانوں کے عقیدہ کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا۔ مولانا عثمانی ندوی نے بتایا کہ آج اغیار بالخصوص عیسائی و ہندو تنظیموں کی جانب سے اسلام کا تنقیدی مطالعہ کرنے کیلئے ادارے قائم کئے جارہے ہیں اور عیسائی جامعات میں اس کا خصوصی نظم موجود ہے لیکن ہمارے مدارس میں دیگر مذاہب کے مطالعہ کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ انہوں نے دینی مدارس کے نصاب میں ترمیم کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال کو تبدیل کرنے کیلئے دیگر مذاہب کے علوم یا ان کی حقیقت معلوم کرنے کے اسباق بھی نصاب کا حصہ ہونے چاہئیں۔ جناب اقبال احمد انجینئر نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کہا کہ 2014ء عام انتخابات کے نتائج کے بعد سے ہندوستان کی صورتحال میں جو تبدیلی رونما ہوئی ہے، وہ انتہائی اہم رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مسئلہ کو چھیڑتے ہوئے شرانگیزی کی کوشش کی گئی ہے لیکن ہمیں اس کا مثبت پہلو نظر میں رکھتے ہوئے اب ہندوازم کے اعتقاد پر سوال کرنے کا حق حاصل ہوگیا ہے۔ جناب اقبال احمد انجینئر نے بتایا کہ ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے داعی ہونے کے مرتبہ کو فراموش کردیا جس کے نتیجہ میں اب انہیں مذہب کی تبدیلی کیلئے دعوت دی جانے لگی ہے۔ مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران خارجی اُمور کے ساتھ ساتھ داخلی حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ مولانا نصیرالدین نے اس موقع پر اپنے خطاب میں مسلمانوں سے خواہش کی کہ وہ دین پر ثابت قدم رہتے ہوئے اصلاح المسلمین کی ذمہ داری نبھانے کی کوشش کریں۔ انہوں نے ملت اسلامیہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں کو اسلام کے قلعوں میں تبدیل کریں۔ مسلکی انتشار کے خاتمے کو یقینی بناتے ہوئے اتحاد کی عظیم قوت پیدا کریں۔ مولانا نصیرالدین نے بتایا کہ ہندوستان میں زائد از 80 فیصد اسلامی اُمور بغیر کسی روک ٹوک کے انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے آر ایس ایس و بی جے پی کے اقدامات کو خوف زدہ کرنے کی کوشش سے تعبیر کیا۔ جناب مشتاق ملک نے اس موقع پر بتایا کہ 2021ء تک عیسائیوں اور مسلمانوں کو ہندوستان میں باقی نہ رکھنے کے اعلانات کرنے والوں کو صرف اسی طرح جواب دیا جاسکتا ہے کہ ہم بھی 2021ء تک کا نشانہ مقرر کرتے ہوئے یہ طئے کریں کہ سرزمین ہندوستان پر پچھڑے طبقات سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کو بارگاہ ایزدی میں رجوع کروائیں گے۔ مولانا عبدالرحمن فاروقی، جناب محمد اظہرالدین، جناب مجاہد ہاشمی ، جناب منیرالدین مجاہد نے بھی اس جلسہ عام سے خطاب کی۔