ٹوکیو ۔ 18 جون (سیاست ڈاٹ کام) جاپان کے شہر اوساکا میں زلزلے کے زبردست جھٹکے محسوس کئے گئے، جس میں تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے جن میں ایک نو سالہ بچی بھی شامل ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد زائد از 200 بتائی گئی ہے۔ ٹیلیویژن فوٹیج میں عمارتوں کو لرزتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ پانی کے کنکشن والے پائپس پھٹ گئے اور ان میں تیزی کے ساتھ پانی خارج ہوتا ہوا دکھایا گیا۔ تقریباً دو ملین کی آبادی والے اس شہر میں زلزلے کے جھٹکے ایسے وقت محسوس کئے گئے جب عام طور پر سڑکوں اور بازاروں میں ہجوم ہوتا ہے۔ البتہ شدید طور پر کوئی مالی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی سونامی وارننگ دی گئی۔ دوسری طرف ریلوے اسٹیشنوں پر مسافرین کی کثیر تعداد دیکھی گئی کیونکہ برقی سربراہی کا سلسلہ منقطع ہوجانے سے برقی ٹرین خدمات بھی ٹھپ پڑ گئی تھیں۔ میڈیا نے بتایا کہ دیگر دو مہلوکین میں ایک 80 سالہ بزرگ شخص بھی شامل ہے جو دیوار گرنے سے ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرا بھی 84 سال کا معمر شخص بتایا گیا ہے جو اپنے ہی مکان میں کتابوں کی شیلف کے نیچے دب کر ہلاک ہوگیا۔ دریں اثناء وزیراعظم شینزوابے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کی جان بچانا اس وقت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس کیلئے مؤثر اقدامات کئے جارہے ہیں جبکہ حکومت کے ترجمان یوشی ہیدے سوگا نے کہا کہ زلزلے کے مزید جھٹکے بھی رونما ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ دو تا تین دن زلزلے کے مزید جھٹکے محسوس کئے جاسکتے ہیں۔