ٹوکیو ، 8 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) جاپان میں ایک طاقتور طوفان کی آمد پر جزائر اوکیناوا کی آبادی میں سے لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کیلئے کہا گیا ہے۔ سمندری طوفان ناگوری منگل کو اوکیناوا کے جنوبی جزائر سے گزر رہا ہے اور اس دوران علاقے میں تیز ہوائیں چلی ہیں اور موسلا دھار بارش ہوئی ہے۔ طوفان کی وجہ سے علاقے میں پروازیں معطل کر دی گئی ہیں اور اسکول بند ہیں۔ مقامی ٹیلی ویژن پر دکھائے گئے مناظر میں کئی درخت اُکھڑے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ جاپانی محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان کے دوران ہوا کی رفتار 252 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے اور سمندر میں 14 میٹر تک بلند لہریں اٹھیں گی۔ اوکیناوا میں پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک طوفان کی وجہ سے پیش آنے والے واقعات میں 83 سالہ خاتون سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایک 62 سالہ مچھیرا لاپتہ ہے۔ محکمۂ موسمیات کے ترجمان ساتوشی ایبیہارا نے پیر کی رات نیوز کانفرنس میں بتایا: ’’خدشہ ہے کہ غیر معمولی حد تک تیز ہوائیں چلیں گی اور بارش ہوگی۔ مہربانی کر کے غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔‘‘ مقامی انتظامیہ نے اوکیناوا کے چار لاکھ 80 ہزار رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ یا تو گھروں کے اندر رہیں یا پناہ کیلئے کمیونٹی سنٹرز میں چلے جائیں۔ اس وقت علاقے کے 50 ہزار سے زائد گھر بجلی سے محروم ہیں اور ایک تیل کے کارخانے نے کام بند کر دیا ہے۔ مقامی افراد خراب موسم کیلئے خود کو تیار کر رہے ہیں۔
ایک مقامی خاتون کیتھرین سپور نے برطانوی نشریاتی ادارہ کو بتایا کہ جن لوگوں نے نقل مکانی کرنا تھی وہ کر چکے ہیں۔ ’’اس وقت یہاں بہت تیز ہوا چل رہی ہے اور بارش ہو رہی ہے۔ میرے علاقے میں 143 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں اور بارش ہو رہی ہے۔ یہ یقیناً خطرناک صورتحال ہے۔‘‘ اوکیناوا جاپان کا انتہائی جنوب کا علاقہ ہے اور یہ جزیروں پر مشتمل ہے۔ یہاں امریکی فوج کے اڈے بھی ہیں۔ ایک طویل المدتی معاہدے کے تحت یہاں امریکہ کے 26 ہزار فوجی تعینات ہیں۔ افسران نے طوفان کی آمد سے قبل ایئر بیس سے جہازوں کو منتقل کر دیا ہے۔ لیفٹیننٹ ایرک انتھونی نے کانڈینا جزیرے کے ائیر بیس سے برطانوی نشریاتی ادارہ کو بتایا کہ ’’وہاں تیز ہوائیں چل رہی ہیں اور درختوں کی ٹوٹی ہوئی شاخوں اور کچرے کو سڑکوں پر یہاں وہاں اڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔ تیز ہوائیں چل رہی ہیں اور درختوں کی ٹوٹی ہوئی شاخوں اور کچرے کو سڑکوں پر یہاں وہاں اڑتے دیکھا جا سکتا ہے۔
‘‘ لیفٹیننٹ انتھونی نے مزید کہا، ’’لیکن میں نے اب تک کوئی بڑا نقصان نہیں دیکھا ہے، ابھی تک علاقے سے رابطہ قائم ہے۔‘‘ ٹوکیو میں موجود برطانوی نشریاتی ادارہ کے نامہ نگار روپرٹ ونگ فیلڈ۔ہیز کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند گھنٹے میں طوفان کی شدت میں کچھ کمی ہوئی ہے اور اب یہ ’سوپر ٹائیفون‘ نہیں رہا۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جب یہ طوفان مشرقی چینی سمندر سے گزرے گا اس کی شدت میں مزید کمی آئے گی۔ تاہم اب بھی اس میں نمی بھرے بادلوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جو طوفانی بارش اور اس کے نتیجے میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔