ممبئی 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) حکومت مہاراشٹرا نے گائے ‘بیل اور بھینسوں کو ذبح کرنے اور ان کا گوشت استعمال کرنے پر عائد متنازعہ امتناع کو منصفانہ قرار دیتے ہوئے بمبئی ہائی کورٹ کو بتایا کہ ان جانوروں کے تحفظ کیلئے یہ اقدام ضروری تھا۔ حکومت نے کہا کہ ریاست کی معیشت کا انحصار زیادہ تر زراعت پر ہے ۔ حکومت نے عدالت میں حلفنامہ داخل کرتے ہوئے کہا کہ جانوروں کی ذبیحہ پر عائد امتناع کو صدارتی توثیق حاصل ہوچکی ہے اور یہ شہریوں کے اپنی پسند کے مطابق غذاء کے انتخاب سے متعلق بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی نہیں ہے ۔ ڈپٹی سکریٹری انیمل ہسبنڈری‘ اگریکلچر ‘ڈیری ڈیولپمنٹ اینڈ فشریز ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ چترا کلا سوریا ونشی نے یہ حلفنامہ داخل کیا ۔ جاریہ ماہ حکومت کی جانب سے عائد امتناع کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کردہ کئی درخواستوں کے جواب میں یہ حلفنامہ داخل کیا گیا ہے۔ درخواست گذاروں نے اس متناعہ قانون کی مختلف دفعات کو چیلنج کیا جس میں گائے ‘بیل اور بھینسوں کا گوشت رکھنے اور استعمال کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ اگر ان جانوروں کو مہاراشٹرا کے باہر ذبح کیا جائے تب بھی ریاست میں لاکر استعمال کرنے یا رکھنے پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔ حکومت نے کہا ہے کہ ان دفعات میں قانونی کوتاہی یا خامی نہیں پائی جاتی اور نہ ہی کسی بنیادی حق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ یہ دفعہ قانون کی موثر طور پر برقراری کو یقینی بنانے اور اس عمل میں درپیش مشکلات کو روکنے کیلئے ضروری ہے ورنہ اس قانون پر عمل آوری حکومت کیلئے بہت مشکل ہوگی۔ حلفنامہ میں کہا گیا ہے کہ یہ تصور کیا جاتا ہے کہ مہاراشٹرا کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے اور گائے کی افزائش کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ بیلوں اور بھینسوں کو نہ صرف یہ کہ زراعت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ ان کی افزائش بھی کی جاتی ہے ۔ یہاں تک کہ ان جانوروں کا گوبر بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ان تمام فوائد کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ گائے کے ساتھ ساتھ بیلوں اور بھینسوں کا نہ صرف یہ تحفظ کیا جائے بلکہ اُن کی افزائش بھی کی جائے ۔