جانا ریڈی ، کومٹ ریڈی کی ٹی آر ایس میں شمولیت کا امکان

صدر تلنگانہ پی سی سی کا عہدہ نہ دینے پر سابق وزیر کانگریس پارٹی سے ناراض

حیدرآباد ۔ 21 ۔ مارچ : ( آئی این این ) : سابق وزیر اور کانگریس کے سینئیر قائد کے جانا ریڈی آئندہ چند دن میں تلنگانہ راشٹریہ سمیتی میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق جانا ریڈی نے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پارٹی میں شمولیت کے لیے ٹی آر ایس کے صدر کے چندر شیکھر راؤ کی پیشکش کو قبول کیا ہے ۔ جانا ریڈی انہیں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کا عہدہ نہ دئیے جانے کے بعد کانگریس پارٹی سے ناراض ہیں ۔ انہوں نے کھل کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور کانگریس ہائی کمان کے پاس احتجاج کرنے کے لیے نئی دہلی بھی گئے ۔ تاہم ان کی یہ ناراضگی اس وقت انتہا کو پہنچ گئی جب مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے یہ اعلان کیا کہ اگر کانگریس کو اقتدار حاصل ہوا تو پسماندہ طبقات سے تعلق ر کھنے والے قائد کو تلنگانہ کا پہلا چیف منسٹر بنایا جائے گا ۔ چونکہ پی سی سی صدر کا عہدہ ایک بی سی قائد ، پنالہ لکشمیا کو الاٹ کیا جاچکا ہے وہ اس بات کی توقع کررہے ہیں کہ ان کی سینیاریٹی اور تحریک تلنگانہ میں ان کے رول کے باعث چیف منسٹر کے عہدہ کے لیے کانگریس پارٹی ان کی امیدواری پر غور کرے گی ۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹی آر ایس صدر نے مبینہ طور پر انہیں ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے کی دعوت دی ہے جس پر عور کرنے سے انہوں نے اتفاق کیا ہے ۔ تاہم اس سلسلہ میں جانا ریڈی کو ہنوز قطعی فیصلہ کرنا ہے ۔ اس طرح کی ایک تبدیلی میں ضلع نلگنڈہ کے سینئیر قائدین کے ایک گروپ کی بھی جانا ریڈی کے ساتھ ٹی آر ایس میں شمولیت کا امکان ہے ۔ جس میں کانگریس ایم پی کومٹ ریڈی راج گوپال ، ان کے بھائی اور رکن اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ، نکریکل کے رکن اسمبلی لنگیا اور الیرو کے رکن اسمبلی بکشمیا گوڑ شامل ہیں ۔ ذرائع کے مطابق یہ قائدین بشمول جانا ریڈی اور کومٹ ریڈی برادرس 25 مارچ کو ٹی آر ایس میں شامل ہوں گے ۔۔