جامع سروے کی بنیاد پر جائیداد ٹیکس وصول کرنے کی تجویز

بغیر اجازت تعمیر کردہ مکانات سے جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا ، بلدیہ کو حکومت کے احکامات
حیدرآباد۔ 3؍نومبر (سیاست نیوز)۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کروائے گئے سروے کی مدد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد حاصل کرتے ہوئے جائیداد ٹیکس کی وصولی کے متعلق منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ بلدی عہدیداروں کے بموجب حکومت کی جانب سے کروائے گئے جامع سروے میں اندرون بلدی حدود جن مکانات کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اسے پیش نظر رکھتے ہوئے جائیداد ٹیکس کی وصولی میں تیزی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ اس سلسلہ میں اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے احکامات بھی دیئے جاچکے ہیں اور اس بات کی وضاحت کی جاچکی ہے کہ تعمیری اجازت نامہ کے بغیر بنائے جانے والے مکانات کو جائیداد ٹیکس کے ساتھ ساتھ جرمانے بھی عائد کئے جائیں تاکہ مستقبل میں تعمیری اجازت حاصل کئے بغیر تعمیری سرگرمیاں انجام دینے والوں کو روکا جاسکے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کو توقع ہے کہ جی ایچ ایم سی کو اس سال 276 کروڑ روپئے کے اضافی جائیداد ٹیکس وصول ہوں گے، کیونکہ سروے کے سبب جو حقائق منظر عام پر آئے ہیں، اس سے جی ایچ ایم سی کو کافی فائدہ حاصل ہونے کی توقع ہے۔ مسٹر سومیش کمار کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے بتایا کہ بلدی عہدیدار تمام اُمور کا جائزہ لیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ جائیداد ٹیکس وصول کرنے کا منصوبہ تیار کررہے ہیں تاکہ شہری علاقوں میں ہونے والی تمام تعمیرات کو باقاعدہ بناتے ہوئے شہریوں کو بہتر سے بہتر انفراسٹرکچر کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ جائیداد ٹیکس کی وصولی میں ہونے والی بے قاعدگیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا بلکہ بے قاعدگیوں کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ جائیداد ٹیکس کی وصولی اور تمام تعمیرات کو باقاعدہ طور پر محصولات کے دائرے میں لانے کے اقدامات میں شفافیت برتنے کی عہدیداروں کو ہدایات دی جاچکی ہیں۔