حیدرآباد 5 جنوری ۔ شیخ الاسلام فضیلت جنگ حضرت محمد انواراللہ فاروقیؒ نے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں دینی علوم کی تعلیم و ترویج کے لئے 137 سال قبل 1876 ء میں عظیم دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ کی بنیاد ڈالی تھی۔ نئی نسل کو دینی تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے اور سارے ہند میں علوم اسلامی کی روشنی پھیلانے کی جو تڑپ آپؒ کے دل میں تھی اللہ عزوجل نے اس تڑپ کو حقیقت میں ایک ایسی علمی شمع میں تبدیل کردیا جس کی ٹھنڈی روشنی ہندوستان کی سرحدوں سے نکل کر سارے عالم میں پھیل گئی ہے۔ قارئین اس علمی شمع سے ہماری مراد جامعہ نظامیہ ہے جسے ازہر الہند کہا جاتا ہے۔ 1875 ء میں شیخ الاسلام امام محمد انواراللہ فاروقیؒ نے جب جامعہ نظامیہ قائم فرمایا اُس وقت نظام ششم نواب میر محبوب علی خاں بہادر المعروف محبوب علی پاشاہ نے مدرسہ چلانے کیلئے محبوب چوک کے قریب 2600 گز اراضی پر محیط ایک عمارت بطور ہدیہ پیش کی۔ اس کے بعد طویل عرصہ تک اسی عمارت میں جامعہ نظامیہ کام کرتا رہا اورجب تشنگان علم کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا تب یہ عمارت اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کرنے لگی اس وقت آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں بہادر نے جامعہ نظامیہ کو موجودہ عمارت واقع شبلی گنج منتقل کردیا اور جامعہ نظامیہ کی سابقہ عمارت کو بناء کسی کرایہ کے دائرۃ المعارف کے حوالے کیا تاکہ اس عمارت میں چھپائی کا کام ہوسکے۔ ایک طویل عرصہ تک دائرۃ المعارف کا پرنٹنگ پریس اس عمارت میں کام کرتا رہا۔ قارئین اب آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جامعہ نظامیہ کی اس عمارت میں راجستھان ہندی مہاودیالیہ کام کررہا ہے
اور جامعہ نظامیہ اور دائرۃ المعارف بڑی بے بسی اور بے کسی کے ساتھ ان حالات کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف ہونے پر کہ محبوب چوک اور گھانسی بازار کے درمیان واقع اس قیمتی جائیداد میں راجستھان ہندی مہا ودیالیہ چلایا جارہا ہے۔ تقریباً 20 کمانوں پر یہ عمارت ٹکی ہوئی ہے اور ہر کمان میں ایک جماعت ہے۔ ہم نے شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ حضرت مولانا مفتی خلیل احمد سے بات کی اُنھوں نے اس بارے میں بتایا کہ بالکل سچ ہے کہ آج جس عمارت میں راجستھان ہندی مہا ودیالیہ چلایا جارہا ہے وہاں ماضی میں جامعہ نظامیہ ہوا کرتا تھا اور جامعہ نظامیہ کی اس عمارت کو دائرۃ المعارف کے حوالے کیا گیا تھا جب دائرۃ المعارف عثمانیہ یونیورسٹی منتقل ہوا تب جامعہ نظامیہ نے دائرۃ المعارف سے عمارت واپس کردینے کی درخواست کی اس کے بعد بار بار دائرۃ المعارف کو عمارت واپس کروانے کی یاد دہانی کروائی گئی لیکن افسوس کہ پولیس ایکشن کے بعد دائرۃ المعارف نے یہ عمارت جامعہ نظامیہ کو علم میں لائے بناء ہندی مہا ودیالیہ کو صرف 100 روپئے کرایہ پر حوالے کردی۔ حالانکہ دائرۃ المعارف نے یہ قبول کیا تھا کہ جامعہ نظامیہ کی یہ جائیداد حوالے کرنے مہلت دی جائے۔ یہی نہیں بلکہ جامعہ نظامیہ کے بار بار اصرار پر ٹال مٹول سے کام لیا گیا۔ مجبوراً جامعہ نظامیہ نے عدالت سے رجوع ہوکر یہ خواہش کی کہ یہ عمارت اس اسلامی یونیورسٹی کے حوالے کردی جائے چنانچہ 1970 ء کے بعد مقدمہ عدالت میں دائر کیا گیا اور پھر 1992 ء میں جامعہ نظامیہ کے حق میں فیصلہ ہوا جبکہ دائرۃ المعارف کی جانب سے کوئی نمائندگی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد دائرۃ المعارف نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی اور اب یہ معاملہ ہائیکورٹ میں زیردوران ہے اور فیصلہ کا انتظار ہے۔ آپ کو بتادیں کہ اس جائیداد کا بلدی نمبر 20-3-703 ہے جہاں راجستھانی ہندی ودیالیہ (سرکاری امدادی مخلوط اسکول) محبوب چوک۔ آپ کو یہ بتادیں کہ حال ہی میں انگریزی اخبار ’’دی ہندو‘‘ میں پرانا شہر میں قیمتی جائیدادوں کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایا تھا کہ گھانسی بازار میں جائیدادیں بہت زیادہ قیمتی ہیں۔ اگر ذرائع کے مطابق یہ جائیداد حقیقت میں 2600 گز پر محیط ہے تو پھر اس کی مالیت تقریباً 20 کروڑ ہوسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دائرۃ المعارف کی جانب سے ہندی ودیالیہ کو تعلیمی مقاصد کے لئے یہ عمارت کرایہ پر دی گئی تھی لیکن اب وہاں ڈانڈیہ پروگرام اور دیگر مذہبی رسومات انجام دیئے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔
حال ہی میں وہاں ٹینس کورٹ کی تعمیر عمل میں لائی گئی۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ ہائیکورٹ کیا فیصلہ دیتا ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ ’’سیاست‘‘ کے پاس اس کی تصویر موجود ہے جس میں اس عمارت کے باب الداخلہ کے عین اوپر ایک تاریخی تختی نصب ہے جس پر دائرۃ المعارف درج ہے لیکن اسکول انتظامیہ نے اس تاریخی تختی پر بورڈ لگاتے ہوئے اسے چھپادیا ہے جس سے انتظامیہ کی نیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اب موجودہ صورتحال کے بارے میں دائرۃ المعارف ہی عوام کو واقف کرواسکتا ہے لیکن ایک بات ضروری ہے کہ اس مقدمہ میں بہت ہی مضبوط پیروی کی ضرورت ہے جس پر خاص طور پر جامعہ نظامیہ کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ نوٹ : اس عمارت کی مکمل فوٹو اور اس کے بارے میں مفتی خلیل احمد صاحب کی بات چیت کو سیاست ویب سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔
abuaimalazad@gmail.com