جامعہ نظامیہ کو عالمی معیار کی سہولتوں سے آراستہ کرنے حکومت کا عزم

ادارہ کی ضروریات کی تکمیل اور دیگر مسائل سے چیف منسٹر کو واقفیت، ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کا بیان

حیدرآباد۔/17مارچ، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت جنوبی ہند کی عظیم اسلامی درسگاہ جامعہ نظامیہ کو عالمی معیار کی سہولتوں کے ساتھ آراستہ کرے گی۔ انہوں نے جامعہ نظامیہ میں آڈیٹوریم کی تعمیر کیلئے حکومت کی جانب سے 9 کروڑ 60 لاکھ روپئے کی منظوری سے متعلق چیف منسٹر کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔ جناب محمود علی نے بتایا کہ جامعہ نظامیہ کے حالیہ دورہ کے موقع پر انہوں نے وہاں کی ضرورتوں کا نہ صرف جائزہ لیا بلکہ آڈیٹوریم کی تعمیر کے سلسلہ میں چیف منسٹر کو واقف کرایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 140سالہ تاریخی جامعہ نظامیہ میں عالمی معیار کی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں متعلقہ محکمہ جات کو ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔ جامعہ نظامیہ کے احاطہ اور اطراف و اکناف میں سرسبز و شاداب ماحول پیدا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ جامعہ نظامیہ کو پہنچنے والی تمام سڑکوں کی تعمیر کی ہدایت دی گئی ہے۔ جامعہ نظامیہ ایسا ادارہ ہے جہاں کے فارغین دنیا بھر میں اشاعت دین کے کام میں مصروف ہیں۔ اس ادارہ کو عالمی معیار کے ادارہ میں تبدیل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ دورہ جامعہ نظامیہ کے موقع پر شیخ الجامعہ اور دیگر ذمہ داروں نے وہاں کے مسائل سے ڈپٹی چیف منسٹر کو آگاہ کیا تھا اور ڈپٹی چیف منسٹر نے اس سلسلہ میں چیف منسٹر کو تفصیلات کی پیش کیں۔ جامعہ نظامیہ کے وفد نے گزشتہ دنوں چیف منسٹر سے ملاقات کرتے ہوئے آڈیٹوریم کی تعمیر کے سلسلہ میں تعاون کی خواہش کی تھی۔ جناب محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اقلیتوں کے اداروں اور خاص طور پر تعلیمی اداروں کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ جامعہ نظامیہ اور اس طرح کے دیگر تاریخی اداروں کے تحفظ کے علاوہ انہیں توسیع دی جائے گی تاکہ دینی اور علمی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اقلیتوں کی ترقی کے مسئلہ پر سنجیدہ ہیں جس کا اظہار ان کے اقدامات سے ہوتا ہے۔ جناب محمود علی نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ صرف اعلانات نہیں بلکہ عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ گزشتہ بجٹ اور پھر آئندہ سال بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے1000کروڑ سے زائد مختص کرتے ہوئے حکومت نے اقلیت دوستی کا ثبوت دیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ہر ضلع میں اقلیتی بہبود کے تمام دفاتر ایک ہی عمارت میں قائم کرنے کیلئے منصوبہ سازی کی جارہی ہے۔ تمام اضلاع سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے اقلیتی بہبود کی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر ضلع میں اقلیتی اقامتی اسکولس اور ہاسٹلس کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اقلیتوں کے بارے میں جو وعدے کئے تھے اس کے علاوہ بھی کئی نئی اسکیمات کا آغاز کیا گیا جن میں شادی مبارک اسکیم شامل ہے جس کے تحت غریب خاندانوں میں شادی کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جناب محمود علی نے کہا کہ اقلیتی طلبہ کو بیرون ملک تعلیم کیلئے 10لاکھ روپئے تک قرض فراہم کرنے سے متعلق منفرد اسکیم سے ہر سال تقریباً 250طلبہ کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اوقافی جائیدادوں کی ترقی کے ذریعہ اس کی آمدنی اقلیتی بہبود پر خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ آئندہ پانچ برسوں میں تلنگانہ کے اقلیتوں کی سماجی، تعلیمی اور معاشی ترقی ملک کی دیگر ریاستوں کی اقلیتوں سے کہیں زیادہ ہوجائے گی۔ تلنگانہ ریاست اقلیتی بہبود کے سلسلہ میں دیگر ریاستوں اور ملک بھر کیلئے ایک مثالی ریاست ہوگی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ اردو اساتذہ کے تقررات اور مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کیلئے حکومت نے اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار کی صدارت میں کمیشن آف انکوائری قائم کرتے ہوئے اندرون چھ ماہ رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اقلیتوں میں ٹی آر ایس کی بڑھتی مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور ان جماعتوں کے قائدین بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنا چاہتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تلنگانہ کی اقلیتیں ٹی آر ایس کے ساتھ اٹوٹ طور پر وابستہ ہیں۔