حیدرآباد۔/18مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے جنوبی ہند کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ میں آڈیٹوریم کی تعمیر کیلئے 9کروڑ 60لاکھ روپئے منظور کئے ہیں۔ اس سلسلہ میں چیف منسٹر نے خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندرون ایک گھنٹہ جی او کی اجرائی کو نہ صرف یقینی بنایا بلکہ اسمبلی میں اس کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر نے صبح اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کو طلب کرتے ہوئے جامعہ نظامیہ میں آڈیٹوریم کی تعمیر کے سلسلہ میں چیف انجینئر عمارات و شوارع کی جانب سے پیش کردہ تخمینہ حوالہ کیا اور جی او جاری کرنے کی ہدایت دی۔ چیف منسٹر کی ہدایت پر سید عمر جلیل نے صرف ایک گھنٹہ میں کارروائی کی تکمیل کی اور جی او آر ٹی 46 جاری کردیا اور اس کی کاپی اسمبلی پہنچ کر چیف منسٹر کے حوالہ کی۔ چیف منسٹر نے بجٹ پر مباحث کے دوران مداخلت کرتے ہوئے ارکان کو حکومت کے اس فیصلہ سے واقف کرایا۔ جی او میں کہا گیا ہے کہ جامعہ نظامیہ کے حکام نے چیف منسٹر سے آڈیٹوریم کی تعمیر کے سلسلہ میں مالی تعاون کی نمائندگی کی تھی۔ حکومت نے چیف انجینئر عمارات و شوارع سے تخمینہ رپورٹ طلب کی اور انہوں نے 9کروڑ 60لاکھ روپئے کے خرچ کا اندازہ پیش کیا۔ حکومت نے اس رپورٹ کی بنیاد پر مذکورہ رقم کی منظوری دے دی ہے۔ یہ رقم مالیاتی سال 2014-15 میں وقف بورڈ کو جاری کردہ گرانٹ اِن ایڈ سے دی جائے گی۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر 20 مارچ کو بانی جامعہ نظامیہ حضرت مولانا انوار اللہ فاروقی ؒ فضیلت جنگ کے صد سالہ عرس تقاریب میں شرکت کریں گے۔ توقع ہے کہ اس موقع پر آڈیٹوریم کی تعمیر کیلئے چیف منسٹر کے ہاتھوں سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ اسی دوران امیر جامعہ نظامیہ مولانا سید شاہ اکبر نظام الدین حسینی صابری نے آڈیٹوریم کی تعمیر کیلئے رقمی منظوری پر چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ چیف منسٹر نے اس اقدام کے ذریعہ اپنی مسلم دوستی کا ثبوت دیا ہے۔ اس سلسلہ میں ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی کی مساعی کا بھی انہوں نے خیرمقدم کیا۔ مولانا اکبر نظام الدین نے اُمید ظاہر کی کہ تلنگانہ حکومت دیگر مسلم اداروں کیلئے بھی اسی طرح کا فراخدلانہ جذبہ کا اظہار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نظامیہ کے اسنادات کو عثمانیہ یونیورسٹی سے مسلمہ حیثیت کے سلسلہ میں چیف منسٹر سے نمائندگی کی گئی تھی اور انہوں نے کارروائی کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری کو ہدایت دی۔ امیر جامعہ نظامیہ نے اُمید ظاہر کی کہ حکومت اس سلسلہ میں جلد کارروائی کرے گی۔ حکومت کے اس اقدام سے سرکاری محکمہ جات میں اردو جاننے والے افراد کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے۔