حیدرآباد ۔ 18 ۔ مارچ (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں حیدرآبادی رباط میں جاریہ سال 600 عازمین کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں ناظر رباط اور نظام اوقاف کمیٹی کے ذمہ داروں سے مذاکرات کے ذریعہ تنازعہ کا حل تلاش کیا جائے گا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے حیدرآبادی رباط میں عازمین حج کا قیام ممکن نہ ہوسکا۔ تاہم حکومت جاریہ سال 600 عازمین کے قیام کے لئے مساعی کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اوقاف کمیٹی اور ناظر رباط میں عازمین حج کے انتخاب کے مسئلہ پر تنازعہ ہے جس کی بہت جلد یکسوئی کرلی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت چاہتی ہے کہ ریاست کے تمام عازمین کیلئے رباط میں قیام کی سہولت موجود رہے تاکہ عازمین پر مالی بوجھ کم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں کئی عمارتوں کو منہدم کردیا گیا جس کا معاوضہ حکومت سعودی عرب کے پاس محفوظ ہے۔ تلنگانہ حکومت اس بات کی کوشش کرے گی کہ اس رقم کے بجائے تلنگانہ کے عازمین کیلئے رباط قائم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دورہ سعودی عرب کے موقع پر رباط کے مسئلہ کو حل کرنے میں پیشرفت ہوئی ہے۔
ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ مسلم قائدین اور ذمہ داروں سے مشاورت کے بعد شہر کے کسی موزوں مقام پر حج ہاؤز تعمیر کیا جائے گا۔ چیف منسٹر کی جانب سے پہاڑی شریف میں بین الاقوامی معیار کا حج ہاؤز تعمیر کرنے سے متعلق اعلان کے پس منظر میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے جناب محمد محمود علی نے کہا کہ سابق میں پہاڑی میں حج ہاؤز کی تعمیر کی تجویز کی مخالفت کی گئی تھی۔ اس بار حکومت مسلم قائدین سے مشاورت کے ذریعہ حج ہاؤز کے مقام کا تعین کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عازمین حج کی فلائیٹس کو بیگم پیٹ ایرپورٹ سے روانہ کرنے کیلئے مرکز سے نمائندگی کی جارہی ہے۔ اس سے نہ صرف عازمین حج کو سہولت ہوگی بلکہ ان کے رشتہ دار بھی طویل مسافت طئے کرنے سے بچ جائے گا۔ جناب محمود علی نے کہا کہ مرکزی وزارت شہری ہوابازی اور جی ایم آر کے عہدیداروں کے ساتھ اس سلسلہ میں اجلاس طلب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیگم پیٹ ایرپورٹ پر ایر ٹریفک کنٹرول کی مکمل سہولت موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ سیکوریٹی انتظامات بھی ایک مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے حج کوٹہ میں اضافہ کیلئے مرکز سے نمائندگی کی جائے گی تاکہ مزید عازمین کو حج کی سعادت نصیب ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑی شریف میں 10 ایکر اراضی مسلم قبرستان کے لئے الاٹ کرنے کی کارروائی جاری ہے اور حکومت شہر کے اطراف 4 مقامات پر قبرستان کیلئے اراضی الاٹ کرنے کامنصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبرستانوں میں تدفین کیلئے بھاری رقومات کا مطالبہ افسوسناک ہے۔
اس سلسلہ میں تحقیقات کی جائیں گی۔اقلیتی بہبود میں اسٹاف کی تعداد میں اضافہ اور ہر ضلع میں اقلیتی بہبود کے دفاتر کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ہر ضلع ہیڈکوارٹرس پر تمام اقلیتی اداروں کیلئے ایک ہی عمارت موجود رہے گی۔ اس سلسلہ میں اراضی کی موجودگی کا پتہ چلانے کیلئے ہر ضلع سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ ہر ضلع میں اقلیتی بہبود کی عمارت میں اقلیتی طلبہ میں مختلف کورسس میں ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ان کی ترقی کیلئے حکومت اس رقم کو اقلیتوں کی تعلیم پر خرچ کرنا چاہتی ہے۔ حج ہاؤز سے متصل زیر تعمیر کامپلکس کی میونسپل فیس کی معافی کا تیقن دیتے ہوئے ڈپٹی چیف مسنٹر نے کہا کہ 31 مارچ تک حکومت فیس معاف کردے گی۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے 4.6 کروڑ کی معافی کے سلسلہ میں حکومت کو درخواست دی ہے۔ جناب محمد علی نے کہا کہ اگرچہ یہ کارروائی کافی دنوں سے زیر التواء ہے لیکن حکومت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسے منظور کردے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے شادی مبارک اسکیم کی سست رفتار عمل آوری اور شعور بیداری میں محکمہ کے تساہل کا اعتراف کیا اور عہدیداروں کو ہدایت دی کہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات کے بارے میں جو پوسٹرس تیار کئے گئے ہیں ، انہیں شہر اور اضلاع کی تمام مساجد میں آویزاں کیا جائے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ وہ مہینہ میں ایک بار حج ہاؤز کا دورہ کرتے ہوئے ا قلیتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔