قانون ساز کونسل میں محمد علی شبیر کے استفسار پر ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا جواب
حیدرآباد ۔ 13 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : حکومت اس تعلیمی سال کے دوران 4 فیصد تحفظات برائے مسلم برقرار رکھتے ہوئے 12 فیصد مسلم تحفظات کے لیے اقدامات کرے گی ۔ جناب محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر مال نے آج تلنگانہ قانون ساز کونسل میں ارکان کے استفسارات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیمی سال 2014-15 کے دوران 4 فیصد مسلم تحفظات پر عمل ہوگا ۔ وہ جناب محمد علی شبیر ڈپٹی فلور لیڈر کانگریس کی جانب سے کئے گئے استفسار کا جواب دے رہے تھے ۔ جناب محمد علی شبیر نے گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ایک موقعہ پر برسر اقتدار جماعت کو مشورہ دیا کہ وہ محکمہ مال اور اوقاف کے ریکارڈس کی تصحیح کرے ۔ محمد علی شبیر نے محکمہ مال کو ریاست کی اوقافی جائیدادوں کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیلنگ ایکٹ 1973 کے نفاذ کے بعد تلنگانہ میں طبقہ امراء کئی مشکلات کا شکار ہوگیا اور غرباء میں شامل ہوگیا ۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اس مسئلہ کا جائزہ لے ۔ انہوں نے وزیر مال کے عہدے پر ایک مسلمان کی نامزدگی پر ٹی آر ایس کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب جب کہ ایک اہم عہدے پر ایک مسلمان ہے تو ایسی صورت میں انصاف کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ جناب محمد علی شبیر نے ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی سے خواہش کی کہ وہ اراضیات کی تقسیم میں مسلمانوں کو مساوی حصہ کی اجرائی پر خصوصی توجہ مرکوز کریں چونکہ اب تک اضلاع میں اراضیات تقسیم کی گئی ہیں ۔ ان میں مسلمانوں کو ایک فیصد حصہ بھی حاصل نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اگر مسلم تحفظات کا بل فوری پیش کرنے کے موقف میں نہیں ہے تو ایسی صورت میں ایمسیٹ داخلہ کی کونسلنگ کی تاریخ میں تبدیلی لائی جائے ۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر مال جناب محمود علی محکمہ مال اور اوقاف کے علاوہ محکمہ مال اور پٹہ دار کے مابین جاری مقدمات جائزہ لیتے ہوئے ان کی یکسوئی کے اقدامات کریں ۔۔