نئی دہلی 8 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) معاشی سروے سے قبل صنعتی ادارہ فکی ( فیڈریشن آف انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری ) نے آج جاریہ اقتصادی سال کیلئے جملہ گھریلو پیداوار کی اپنی پیش قیاسی میں کمی کی ہے اور کہا کہ سابقہ تخمینہ جہاں 5.5 فیصد ترقی کا تھا وہاں اب یہ تخمینہ 5.3 فیصد تک رہے گا ۔ کہا گیا ہے کہ معمول سے کم مانسون کی پیش قیاسی کی وجہ سے زرعی شعبہ کی ترقی متاثر ہوسکتی ہے جس کو ذہن میں رکھتے ہوئے جملہ گھریلو پیداوار کی شرح ترقی کے تناسب میں کمی کی گئی ہے ۔ فکی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فکی کے تازہ ترین معاشی حالات کے سروے میں سال 2014 – 15 کیلئے جملہ گھریلو پیداوار کی شرح 5.3 فیصد رکھی گئی ہے ۔ ایک تخمینہ کے مطابق اقل ترین شرح ترقی 4.9 فیصد اور اعظم ترین 5.8 فیصد تک ہوسکتی ہے ۔ فکی کے سروے میں سال 2014 – 15 میں اقتصادی خسارہ کو جملہ گھریلو پیداوار کا 4.5 فیصد رکھا گیا ہے جبکہ عبوری بجٹ میں اقتصادی خسارہ کا تخمینہ 4.1 فیصد رکھا گیا تھا ۔ سال 2014 – 15 میں اس سروے کے مطابق صنعتی ترقی 3.1 فیصد اور زرعی ترقی 2.1 فیصد تک ہوسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ سروسیس کے شعبہ میں امکان ہے کہ شرح ترقی 7 فیصد ہوسکتی ہے ۔ سروسیس کے شعبہ میں گذشتہ سال کی شرح ترقی 6.8 فیصد ہوئی تھی ۔ افراط زر کے محاذ پر اس سروے میں حصہ لینے والے ماہرین معاشیات نے اس توقع کا اظہار کیا کہ مہنگائی عوام کی توقعات سے زیادہ ہی رہے گی ۔ سروے کے مطابق فیول کی قیمتوں میں اضافہ کے نتیجہ میں جو دباؤ بڑھ رہا ہے وہ برقرار رہے گا ۔
قیمتوں کی صورتحال کے تعلق سے ماہرین معاشیات نے اس احساس کا اظہار کیا کہ حکومت کے پاس سپلائی کی صورتحا لکو بہتر بنانے اور کیلئے بہت کم امکانات ہیں اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ فوری طور پر غذائی اجناس کی کھیتوں سے مارکٹ تک سپلائی میں ہونے والی مشکلات کو دور کرنا چاہئے ۔ معاشی ترقی کی شرح کو بہتر بنانے کے اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے سروے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ جہاں گڈس اور سرویس ٹیکس کو ختم کرنے کیلئے واضح منصوبے کی ضرورت ہے وہیں ڈائرکٹ ٹیکس کوڈ پر ٹیکس ڈھانچہ کو وسعت دینے کے تعلق سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ ٹیکس استثنائی ڈھانچہ کو بھی حالات کے مطابق بنایا جانا چاہئے ۔ سروے میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ سبسڈیز کو کم سے کم کرنے کیلئے کوئی راہ تلاش کرے اور ساری توجہ غیر منصوبہ جاتی اخراجات سے منصوبہ جاتی اخراجات پر مرکوز کی جانی چاہئے ۔ حکومت کو سرمایہ نکاسی کا بھی ایک جامع منصوبہ تیار کنے کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے ۔ سروے میں حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ وہ مینوفیکچرنگ شعبہ میں ترقی کی شرح کو مستحکم کیا جائے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوسکیں
اور انفرا اسٹرکچر شعبہ پر اخراجات کو زیادہ کیا جاسکے ۔ اس کے علاوہ جو پراجیکٹس رکے ہوئے ہیں ان پر تیزی سے عمل آوری کی ضرورت بھی ظاہر کی گئی ہے ۔ ہندوستان کے ٹیکس ڈھانچہ کو وسعت دینے کے تعلق سے ماہرین معاشیات نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ عوام کو رسمی روزگار کے دائرہ میں لاتے ہوئے ٹیکس ڈھانچہ کو وسعت دی جائے ۔ اس کام کو ترجیحی بنیادوں پر کیا جانا چاہئے ۔ ان کا احساس تھا کہ ایسے شعبہ جات کو بھی ٹیکس ڈھانچہ میں لانے کی ضرورت ہے جو بھاری آمدنی کے باوجود اس ڈھانچہ میں شامل نہیں کئے گئے ہیں۔ ماہرین معاشیات نے ایک خصوصی ایسٹ مینجمنٹ کمپنی قائم کرنے کی بھی سفارش کی ہے تاکہ ان وسیع اثاثہ جات کو حاصل کیا جاسکے جو بیکار ہیں اور جن سے کوئی کام نہیں لیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بینکوں کی معاشی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے ۔