واشنگٹن 11 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ کے سابق نائب صدر ڈک چینی نے کہا ہے کہ اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش سی آئی اے کی جانب سے دہشت گردی کے مشتبہ ملزمین کو ایذا رسانی کے بے رحمانہ طریقوں سے واقف تھے اور اس کا حصہ بھی رہے ہیں۔ منگل کے دن امریکی سینیٹ کی جانب سے سی آئی اے کی بے رحمانہ اذیتوں پر مشتمل رپورٹ جاری کی گئی ہے جس کا طویل عرصہ سے انتظار کیا جارہا تھا ۔ اس رپورٹ میں قیدیوں کے ساتھ انتہائی بے رحمانہ اور غیر انسانی سلوک کی تفصیلات کو پیش کیا گیا ہے ۔ اس رپورٹ میں ادعا کیا گیا تھا کہ جارج ڈبلیو بش کو سی آئی اے کی جانب سے اذیت رسانی کے واقعات کا 2006 میں ہی علم ہوا تھا ۔ اذیت رسانی کا یہ سلسلہ چار سال قبل ہی شروع ہوگیا تھا جب نیویارک میں 9/11 حملے ہوئے تھے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محروسین کو زد و کوب کیا گیا تھا ‘ انہیں پانی میں گھیر کر رکھا گیا تھا ۔ ان کی ہتک کی گئی تھی اور کئی ایسے تکلیف دہ طریقے اختیار کئے گئے تھے جو غیر انسانی کہے جاسکتے ہیں۔ ڈک چینی نے فاکس نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ جارج بش کو ان ایذا رسانی طریقوں سے ناواقف رکھا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے صدر ( جارج بش ) در اصل اس سارے عمل کا اٹوٹ حصہ رہے ہیں اور انہوں نے ان طریقوں کی منظوری دی تھی ۔
اس سوال پر کہ آیا جارج بش ایذا رسانی کے مخصوص طریقوں سے پوری طرح واقف تھے چینی نے کہا کہ ہم نے اس تکنیک پر تبادلہ خیال کیا تھا ۔ ہم نے ان طریقوں سے اور ایذا رسانی کے عمل سے بش کو ناواقف رکھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ سینیٹ کی رپورٹ پر جارج بش نے ابھی تک سر عام کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے جس پر دنیا بھر میں تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔ سی آئی نے ایذا رسانی کے واقعات کو پوچھ تاچھ کے وسیع تر طریقے قرار دیا ہے ۔ دنیا بھر میں مطالبات کئے جا رہے ہیں کہ ایذا رسانی کے ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہئے ۔ سینیٹ کی رپورٹ میں ادعا کیا گیا ہے کہ سی آئی اے نے عمدا کانگریس اور وائیٹ ہاوز کو تفتیش کنندگان کو ملنے والی انٹلی جنس اطلاعات کے تعلق سے گمراہ کیا تھا ۔ ڈک چینی نے تاہم اس کو مسترد کردیا ہے ۔ ڈک چینی کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی یہ رپورٹ درست نہیں ہے اور غلطیوں پر مبنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کل ہی اس رپورٹ کو مسترد کردیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کی تیار کرنے والے افراد نے ایذا رسانی کے عمل کا حصہ رہنے والوں سے انٹرویو کرنا تک مناسب نہیں سمجھا تھا ۔ 500 صفحات پر مشتمل ڈی کلاسیفائیڈ اطلاعات میں یہ کہا گیا ہے کہ سی آئی نے سب سے پہلے اس عمل کے تعلق سے جارج بش سے 8 اپریل 2006 کو تبادلہ خیال کیا تھا جبکہ چار سال پہلے سے یہ عمل شروع کردیا گیا تھا ۔
اس دوران جرمنی ‘ پاکستان اور افغانستان نے سی آئی اے کی ایذا رسانی پر سخت تنقید کی ہے ۔ پاکستان نے کہا ہے کہ ایذا رسانی کے یہ واقعات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان کی دفترخارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان سینیٹ رپورٹ کی مذمت کرتا ہے ۔ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور حقوق انسانی قوانین کی پاسداری کی جانی چاہئے ۔ افغان صدر اشرف غنی نے امریکی سی آئی اے کے تشدد آمیز تفتیشی حربوں کی مذمت کی ہے اور ان کو انسانی حقوق کے تمام مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ افغان حکومت ان غیرانسانی اقدامات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں اس طرح کے اقدامات اور غیرانسانی تشدد کا کوئی بھی جواز نہیں پیش کیا جا سکتا ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر زید رعد الحسین نے کہا ہے کہ تشدد پر کسی قسم کا کوئی استثنیٰ نہیں ہونا چاہئے۔ اس دوران جرمنی نے بھی سی آئی اے کے تفتیشی حربوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ہماری لبرل اور جمہوری اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ جرمن وزیرخارجہ فرینک والٹر اسٹینمئیر نے سابق صدر بش کے دور میں سی آئی اے کے تشدد پر مبنی تفتیشی پروگرام کی مذمت کی ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے سینیٹ کمیٹی کی رپورٹ کو عام کرنے پر صدر اوباما کے اقدام کی ستائش کی ۔