جئے للیتا غیر متناسب اثاثہ جات مقدمہ میں بری

بنگلورو۔11مئی ( سیاست ڈاٹ کام )آل انڈیا انا ڈی ایم کے کی سربراہ جئے للیتا کے دوبارہ چیف منسٹر ٹاملناڈو بننے کی راہ ہموار ہوگئی جبکہ انہیں 19 سال پرانے غیر محسوب اثاثہ جات کے مقدمہ میں بری کردیا گیا ۔ کرناٹک ہائیکورٹ نے انہیں الزامات منسوبہ سے بری کردیا ۔ جسٹس سی آر کمارا سوامی نے اپنے 919 صفحات پر مشتمل فیصلے میں ٹرائیل عدالت کے جج مائیکل ڈی کنہا کے گذشتہ سال دئے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دیا اور کہا کہ ملزم بری کئے جانے کی مستحق ہیں ۔ جب اصل ملزم ( جئے للیتا ) کو بری کیا جا رہا ہے تو دوسرے ملزمین بھی ‘ جن کا رول کم ہے ‘ بری کئے جانے کے متقاضی ہیں۔ ٹرائیل عدالت کے جج نے گذشتہ سال اپنے فیصلے میں جئے للیتا کو کرپشن کی مرتکب قرار دیتے ہوئے چار سال قید کی سزا سنائی تھی ۔ ہائیکورٹ کے فیصلے میں جئے للیتا کی قریبی رفیق ششی کلا اور دیگر دو افراد کو بھی بری کردیا گیا ۔ اس فیصلے کے فوری بعد ٹاملناڈو میں خوشیوں کی لہر دوڑ گئی اور انا ڈی ایم کے کارکنوں نے آتش بازی کی ‘ شیرینی تقسیم کی گئی اور چینائی میں جئے للیتا کی قیامگاہ کے علاوہ سارے ٹاملناڈو میں سڑکوں پر رقص کرتے ہوئے مسرت کا اظہار کیا ۔ جئے للیتا کی براء ت کے بعد چیف منسٹر او پنیر سیلوم اور پارٹی کے کئی قائدین نے پوئیس گارڈن پر ان کی قیامگاہ پہونچ کر ان سے ملاقات کی اور اسمجھا جارہا ہے کہ انہوں نے جئے للیتا کے دوبارہ چیف منسٹر کی ذمہ داری سنبھال لینے پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ جئے للیتا گذشتہ سال 27 اگسٹ کو سزا سنائے جانے کے بعد چیف منسٹر کے عہدہ سے علیحدہ ہوگئی تھیں کیونکہ عدالت کے فیصلے سے وہ از خود اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہوگئی تھیں اور آئندہ دس سال تک انتخاب لڑنے کیلئے بھی نا اہل ہوگئی تھیں۔ تاہم آج کرناٹک ہائیکورٹ کے فیصلے سے ان کی دوبارہ اقتدار سنبھال لینے اور انتخابات میں مقابلہ کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے ۔ سمجھا جارہا ہے کہ جئے للیتا دوبارہ چیف منسٹر کی ذمہ داری سنبھالنے کیلئے کسی ’’ شبھ مہورت ‘‘ کی منتظر ہیں جبکہ ریاست میں اسمبلی انتخابات کو مزید ایک سال کا وقت ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جئے للیتا کو رشوت مقدمہ میں بری ہونے پر مبارکباد دی ۔ جئے للیتا نے عدالت کے فیصلے کے بعد اپنے رد عمل میں کہا کہ آج کے فیصلے سے انہیں اطمینان ہوا ہے ۔ اس سے ان پر جو دھبہ لگا تھا وہ دھل گیا ہے ۔ سیاسی مخالفین نے ان پر جو الزامات عائد کئے تھے وہ غلط ثابت ہوگئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لمحہ آخر میں سپریم کورٹ سے طلب کئے گئے خصوصی پبلک پراسکیوٹر بی وی اچاریہ نے کہا کہ استغاثہ کا کیس کمزور ہوگیا تھا کیونکہ کرناٹک اور اس کے خصوصی پبلک پراسکیوٹر کو ہائیکور ٹ کو زبانی دلائل سے ہائیکورٹ کو مطمئن کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ۔ ہائیکورٹ نے جئے للیتا اور دوسرے تین ملزمین کی جانب سے دائر کردہ اپیلوں پر یہ فیصلہ سنایا ہے ۔ عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جئے للیتا کے وکیل بی کمار نے کہا کہ سابقہ ڈی ایم کے حکومت کا دائر کردہ مقدمہ اب مسترد کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے نتیجہ میں یہ واضح ہوگیا ہے کہ اب جئے للیتا چیف منسٹر کا عہدہ سنبھال سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں فیصلہ سنانے تین ماہ کا وقت دیا تھا اور جسٹس کمارا سوامی نے اس سے ایک دن قبل ہی یہ فیصلہ سنادیا ۔ 67 سالہ جئے للیتا فیصلہ کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھیں ۔ مسٹر اچاریہ نے کہا کہ حکومت کرناٹک اس کیس میں واحد پراسکیوٹنگ ایجنسی ہے جیسا کہ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے تاہم اسے ہائیکورٹ میں مناسب نمائندگی کا موقع نہیں دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملزمین کی جانب سے وکلائے صفائی نے عدالت میں دو ماہ تک مباحث کئے اور اس دوران کرناٹک حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کوئی پبلک پراسکیوٹر نہیں تھا ایسے میں ساری کارروائی کسی نامزد پبلک پراسکیوٹر کے بغیر انجام پائی ہے ۔اس دوران مختلف سیاسی جماعتوں نے جئے للیتا کو اس مقدمہ میں براء ت پر مبارکباد دی ہے ۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں فون کیا ۔ تاہم جئے للیتا کے کٹر حریف و ڈی ایم کے سربراہ ایم کروناندھی نے کہا کہ کرناٹک ہائیکورٹ کی جانب سے بر اء ت قطعی فیصلہ نہیں ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپوزیشن سی پی آئی اور ایم ڈی ایم کے نے بھی ان کی برات کا خیر مقدم کیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ سشما سوراج ‘ مرکزی وزیر اقلیتی بہبود نجمہ ہپت اللہ اور ٹاملناڈو کے گورنر کے روشیا نے بھی انہیں مقدمہ میں برات پر مبارکباد پیش کی ہے ۔ این سی پی لیڈر شرد پوار اور سی پی آئی سکریٹری اٹل کمار رنجن و دوسرے قائدین نے بھی جئے للیتا کو مبارکباد دی ہے ۔