تین کم عمر ہندوستانی ۔ امریکی داعش میں شامل ہونے کی کوشش میں گرفتار

شکاگو ، 13 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) محمد حمزہ خان (19 سال) گزشتہ 4 اکٹوبر کو اپنے والد اور 16 سالہ بھائی کے ساتھ طلوع آفتاب سے قبل بیدار ہوا تاکہ شکاگو کے مضافات میں واقع اپنے پڑوس کی مسجد میں نماز فجر ادا کرے۔ جب وہ صبح 6 بجے سے قبل گھر واپس ہوئے تو والد دوبارہ بستر پر چلے گئے اور یہ کم عمر خان برادران نے رازداری سے ایک پلان شروع کردیا جو وہ کئی ماہ سے رچا رہے تھے کہ اپنی فیملی اور اپنا وطن چھوڑکر شام کا سفر کریں تاکہ اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) میں شامل ہوسکیں۔ ایسے وقت جبکہ والدین محو خواب تھے، حمزہ نے تین نئے جاری کردہ امریکی پاسپورٹس اور 2,600 ڈالر مالیت کے ایرلائن ٹکٹس برائے ترکی اکٹھا کرلئے، جو اُس نے خود اپنے، اپنے بھائی اور اپنی 17 سالہ بہن کیلئے حاصل کر رکھے تھے۔ یہ تینوں بھائی بہن دھیرے سے گھر سے نکل پڑے،

ٹیکسی پکڑی اور او‘ ہیئر انٹرنیشنل ایرپورٹ پہنچ گئے۔ حمزہ صبح 6-30 بجے مقامی اسٹور پر کام کیلئے پہنچ جایا کرتا تھا، چنانچہ اسے پتہ تھا کہ والدین اسے نہ پاکر فکرمند نہیں ہوں گے جبکہ دیگر بھائی بہن نے اپنے بستروں کو اس طرح رکھ چھوڑا جس سے عمومی نظر پر ایسا لگے کہ کوئی سو رہا ہو۔ اُن کا منصوبہ تھا کہ پہلے استنبول کیلئے پرواز کریں اور پھر شام پہنچ کر دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) کی سرزمین میں بس جائیں۔ ہندوستانی تارکین وطن کے یہ تینوں امریکی بچوں نے اپنے والدین کیلئے مکتوبات چھوڑ کر اپنے مقاصد کی وضاحت کردی تھی۔ دوپہر میں شفیع خان کے گھر کا دروازہ ایف بی آئی ایجنٹس نے کھٹکھٹایا، جن کے پاس تلاشی وارنٹ تھا۔ شفیع خان نے حیرت سے پوچھا ، ’’کس لئے؟‘‘۔ ایک عہدہ دار نے جواب دیا: ’’آپ کے بچے ایرپورٹ پر پکڑ لئے گئے ہیں کیونکہ وہ ترکی جانے کی کوشش کررہے تھے‘‘۔