تین طلاق تعزیری جرم ، لوک سبھا میں بل منظور

کانگریس ، اناڈی ایم کے کا واک آؤٹ ، بل کے حق میں 245 اور مخالفت میں 11 ووٹ ، شوہر کو 3 سال کی جیل کی دفعہ ہٹادینے کا مطالبہ مسترد

l بل ، مسلم پرسنل لاء کے مغائر ، ملکارجن کھرگے، اسلامی شریعت میں مداخلت : بدرالدین اجمل
l مسلم خواتین کے تحفظ کے نام پر بی جے پی سیاست کررہی ہے:دھرمیندر یادو (ایس پی)
l آرڈیننس کی ضرو رت نہیں ، جئے دیو گولہ(تلگودیشم)
l تین طلاق بل حکومت کی یکسرمن مانی :جیتندر ریڈی ( ٹی آر ایس)

l مسلم خواتین کیلئے بی جے پی حکومت مگرمچھ کے آنسو بہارہی ہے :محمد سلیم (سی پی ایم)
l حکومت کے قانون اور جبر و دباؤ سے ہم ڈرنے والے نہیں :اسدالدین اویسی
l سیاسی طور پر حساس بل پر چار گھنٹے تک گرما گرم بحث
l راجیہ سبھا میں بل کی منظوری ، حکومت کی آزمائش

نئی دہلی ۔ /27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں آج تین طلاق کو تعزیری جرم قرار دینے والا بل منظور کرلیا گیا ۔ حکومت نے مسلم طبقہ کو نشانہ بنانے کے مقصد سے بل لانے کی دلیل کو مسترد کردیا ۔ اپوزیشن جس نے بل کو جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ حکومت کی جانب سے اس مطالبہ کو مسترد کردینے کے بعد کانگریس ، اناڈی ایم کے ، ٹی ایم سی اور آر جے ڈی نے ایوان سے واک آوٹ کردیا ۔ بل کی ندائی ووٹ سے منظوری سے تھوڑی دیر قبل ہی اپوزیشن میں پھوٹ دکھائی دی ۔ بل کے حق میں 245 ووٹ ملے جبکہ مخالفت میں 11 ووٹ ڈالے گئے ۔ مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے پانچ ترامیم پیش کی جو خارج کردی گئی ۔ بل میں پائی جانے والی خامیوں کی جانب نشاندہی کرتے ہوئے کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ اس پر 15 دنوں کے اندر رپورٹ طلب کی جائے ۔ مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے ایوان میں چار گھنٹے تک چلی گرما گرم بحث کے بعد کہا کہ یہ بل ووٹ بینک کیلئے نہیں ہے ۔ اچھی بات یہ رہی کہ تمام ارکان نے بل کی مخالفت کی ۔ بل کسی طبقہ کو نشانہ بنانے کیلئے نہیں ہے بلکہ بل پر سمجھوتہ کرنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے ۔ 22 اسلامی ملکوں میں تین طلاق پر قانون بنایا گیا ہے تو ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں یہ قانون کیوں نہیں بنایا جانا چاہئیے ۔ مجلسی لیڈر اسدالدین اویسی نے کہا کہ حکومت کے قانون جبر و استبداد سے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ہم ڈریں گے نہیں ، ہم اپنے مذہب پر عمل کریں گے اور رہتی دنیا تک اسلام پر عمل کرتے رہیں گے ۔ مسلم خواتین کی مکمل آبادی اس بل کے خلاف ہے ۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کی کہ اس نے می ٹو کے متاثرہ اپنے وزیر ایم جے اکبر کو پناہ دے رکھی ہے ۔ بی جے پی ایک طرف ایسے لوگوں کو پناہ دے رہی ہے دوسری طرف ہمیں آئینہ دکھا رہی ہے ۔ مرکزی حکومت سپریم کورٹ کا نام لیکر ہندوستانیوں کو گمراہ نہ کرے ۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ میں حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر ہماری تہذیب میں مداخلت کیوں کی جارہی ہے ۔ اویسی نے بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 1986 ء میں شاہ بانو کے مسئلہ پر بھی کانگریس شکست سے دوچار ہوئی تھی ۔ بی جے پی بھی اسے انصاف نہیں دے سکی ۔ بی جے پی مسلم خواتین سے محبت نہیں رکھتی بلکہ حکومت کا مقصد مسلم مردوں کو جیل بھیجنا ہے ۔ اگر مرد کو جیل بھیج دیں گے تو ان کے بچوں کی تعلیم ، روٹی روزی کا بندوبست کون کرے گا ۔ قانون و انصاف کے نام پر حکومت مسلمانوں کو دھوکہ دے رہی ہے ۔ بدرالدین اجمل اے آئی یو ڈی ایف نے کہا کہ تین طلاق بل غیراسلامی ہے ، اسلامی شریعت میں مداخلت ہے ، یہ بل مسلمانوںکی مذہبی آزادی کو چھیننے کی کوشش ہے ۔ انہوں نے مناکشی لیکھی کی تقریر کا حوالہ دیا اور کہا کہ بی جے پی کی یہ رکن پارلیمنٹ اسلام کے تعلق سے کم معلومات رکھتی ہیں ۔ اجمل نے کہا کہ طلاق بدعت کو اسلام کی منظوری حاصل نہیں ۔ لیکن ایک شخص کو بندوق کا لائسنس دینے کا مقصد یہ نہیں کہ وہ کسی کو بھی گولی مارسکتا ہے ۔ اسلام میں طلاق کے تعلق سے جو باریکیاں بیان کی گئی ہیں اسی طرح ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ طلاق کے مسئلہ کو غیر ضروری اچھالا گیا ہے ۔ کمیونسٹ رکن پارلیمنٹ سی پی آئی ایم مغربی بنگال محمد سلیم نے کہا کہ اس بل کو قبل ازیں ایوان میں روک دیا گیا تھا اور اسے غور وخوص کیلئے واپس بھیج دیا گیا ۔ اس تعلق سے رپورٹ کا انتظار ہے ۔ آخر حکومت بل کو دوبارہ لانے کی عجلت کیوں کررہی ہے ۔ ایک سیول مسئلہ کو تعزیری جرم قرار نہ دیا جائے ۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ قرآن اور حدیث پر بات کرنے کیلئے صرف بی جے پی ہی کافی رہ گئی ہے کیونکہ بی جے پی لیڈر اب قرآن و حدیث کی بات کرنے لگے ہیں ۔ ایک طرف وہ مسلم طبقہ کے اور مسلم مردوں کے اختیارات کو چھین رہے ہیں ۔ دوسری طرف مسلم خواتین کو انصاف دلانے کی بات کرتے ہوئے مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں ۔ سی پی آئی نے تین طلاق بل کو فوجداری کے تحت لائے جانے کی مخالفت کی ۔ انڈین مسلم لیگ رکن محمد بشیر نے کہا کہ شادی اور طلاق کا معاملہ پرسنل لاء کے تحت آتا ہے ۔ اس میں حکومت مداخلت نہیں کرسکتی ۔ یہ بل غیردستوری ہے ۔ انہوں نے اس طرح کا بل لانے کیلئے بی جے پی کی کوششوں اور ارادوں پر سوال اٹھایا ۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں پارٹی اس بل کو لاتے ہوئے یکساں سیول کوڈ کی جانب پیشرفت کررہی ہے ۔ تلگودیشم لیڈر جئے دیو گولہ نے کہا کہ حکومت کو بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں ہجومی تشدد سے عوام کو بچانے پر زیادہ توجہ دینا چاہئیے ۔ انہوں نے تین طلاق بل پر آرڈیننس لانے کی ضرورت پر سوال اٹھایا ۔ ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ جیتندر ریڈی محبوب نگر نے کہا کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنے کے نام پر حکومت قومی یکجہتی کو ٹھیس پہونچارہی ہے ۔ مذہبی عقائد میں ترمیم لانا اس ایوان کی ذمہ داری نہیں ہے ۔ یہ بل سراسر حکومت کی من مانی ہے ۔ ہم کو چاہئیے کہ ہم اقلیتی طبقہ کو اکثریتی طبقہ کے ساتھ یکجہتی سے رہنے کی ترغیب دیں ۔ انہیں ایک دوسرے سے دور نہ کریں ۔ یہ بل انتشار پیدا کرے گا ۔ سماج وادی لیڈر دھرمیندر یادو نے کہا کہ مسلم خواتین کے تحفظ کے نام پر بی جے پی سیاست کررہی ہے ۔ راجیہ سبھا میں بل کی منظوری حکومت کی آزمائش ہوگی ۔ سیاسی طور پر حساس اس بل پر چار گھنٹے تک گرما گرم مباحث ہوئے ۔ مباحث میں بی جے ڈی ، ٹی ایم سی کے ارکان نے بھی حصہ لیا ۔ مرکزی وزیر سمرتی ایرانی نے مسلم خواتین کو انصاف دلانے اس بل پر فخر کا اظہار کیا ۔ مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے بل کی منظوری کو آج کا تاریخی دن قرار دیا ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سیکولر سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس بل کی مخالفت کریں ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ اور اس کے شعبہ خواتین نے بھی مسلسل حکومت کے اس عمل کی مخالفت کی ہے ۔