تیل کی قیمتوں میں کمی کیلئے سعودی سازش کا الزام مسترد

ابوظہبی۔21ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے وزیر تیل علی النعیمی نے آج کہا کہ انہیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد بہت جلد بہتری پیدا ہوگی ۔ قیمتوں میں اس کمی کے لئے انہوں نے اس کمی کیلئے تیل پیدا اور برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک سے باہر رہنے والے رکن ممالک میں تعاون کے فقدان کو بھی جزوی طور پر مورد الزام ٹہرایا ۔ مسٹر علی النعیمی نے ابوظہبی میں توانائی کے ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ مجھے یقین ہے کہ تیل کے ( عالمی) مارکٹ میں بہتری پیدا ہوگی اور تیل کی قیمتوں میں بہتری پیدا ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں زبردست کمی جزوی طور پر تیل پیدا کرنے والے ایسے بڑے ممالک کے مابین تعاون کے فقدان کا نتیجہ بھی ہے جو( ممالک) اوپیک میں شامل نہیں ہیں ۔

النعیمی نے جن کا ملک اوپیک ارکان میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے کہا کہ اوپیک سے باہر رہنے والے تیل پیدا اور برآمد کرنے والے ممالک نئی محفوظ و منصفانہ قیمتوں کیلئے تعاون کی اہمیت کو محسوس کریں گے ۔ انہوں نے شمالی امریکی کمپنیوں سے خام تیل کی پیداوار کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے قیاس آرائی کی کہ بھاری مصارف پر تیل پیدا کرنے والے اب اپنی پیداوار میں اضافہ نہیں کریں گے ۔ مسٹر النعیمی نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا کہ سعودی عرب نے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے اصرار کیا کجہ مملکت سعودی عرب کی پالیسی خالص اقتصادی اصولوں پر مبنی ہے ۔ سعودی وزیر تیل نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں کئی تجزیوں اور مضامین میں سیاسی محرکات پر مبنی سعودی سازش کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ بعض مخصوص ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچانے کیلئے تیل اور اس کی قیمتوں کو استعمال کیا جارہا ہے ‘یہ الزام بے بنیاد ہے ‘‘ ۔ اوپیک کے رکن ملک ایران اور غیر رکن ملک روس نے عالمی مارکٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کو سازش قرار دیا تھا ۔