عام آدمی کی خاص بات
تیس برسوں سے فٹ پاتھ پر قدیم سکے فروخت کرنے والے گلاب صاحب
حیدرآباد ۔ 19 ۔ جنوری : ( نمائندہ خصوصی ) : ہم میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی زندگیاں فٹ پاتھ سے شروع ہوتی ہیں اور فٹ پاتھ پر ہی ہوتی ہے ۔ 30 سال پہلے فٹ پاتھ پر اپنی معاشی زندگی کا آغاز کرنے والے شخص کی آج بھی ان کی زندگی اسی فٹ پاتھ پر گذر رہی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے 30 سال پہلے جس فٹ پاتھ پر اپنی قسمت کی لکیریں کھینچی تھیں آج بھی اسی فٹ پاتھ کی راہداریوں میں اپنے مقدر کا لکھا ڈھونڈ رہے ہیں ۔ 65 سالہ شیخ احمد کی جو بازار میں گلاب صاحب کے نام سے مشہور ہیں ۔ ان کی پیدائش راجستھان میں ہوئی مگر 1984 میں جب وہ حیدرآباد آئے تو پھر پلٹ کر کبھی واپس نہیں گئے ۔ اور ’ جو ایک بار حیدرآباد آتا ہے یہیں کا ہو کر رہ جاتا ہے ‘ ۔ والی کہاوت کی زندہ جاوید مثال بن کر رہ گئے ۔ گلاب صاحب نامپلی اسٹیشن کے قریب فٹ پاتھ پر اولڈ کائن اور اینٹک کائن جو بازار میں دستیاب ہی نہیں ہیں کی خرید و فروخت کرتے ہیں ان کے پاس نہایت قدیم ایک پیسہ سے لے کر ایک روپئے تک کا سکہ اور دیگر قدیم سکے ہیں جسے وہ فروخت کرتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اولڈ کائنس تانبہ پیتل کی دکانوں سے ہول سیل میں خرید کر اسے صاف کر کے الگ کر فروخت کرتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر مال جئے پور راجستھان سے آتا ہے ۔ اس لیے ان کے پاس قیمتی نگینے بھی فروخت کے لیے دستیاب ہوتے ہیں ۔ مسٹر گلاب کے پاس اینٹک سکوں ، قدیم سے قدیم پیسے اور ایک سے ایک نگینے دیکھے جاسکتے ہیں جو ان سکوں اور نگینوں کے قدر داں اور شوقین ان سے آکر حاصل کرتے ہیں ۔ گلاب صاحب کاروبار اور ان کے پاس موجود اشیاء کس قدر اینٹک ہے اس کا اندازہ ان کی چھتری سے بھی لگایا جاسکتا ہے ۔ جو پچھلے کئی دہا سے ’ دھوپ چھاؤں ‘ کا ساتھیبنی ہوئی ہے ۔ ان کی چھتری کو بھی اینٹک اور ’ آثار ‘ قرار دیا جاسکتا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔پچھلے 3 عشروں سے ایک ہی مقام پر بیٹھنے والے گلاب صاحب اب اپنے مقام ماسٹر پلان میں آگیا ہے ۔ جو بہت جلد منہدم کردیا جائے گا ۔ این ٹی آر نگر میں مقیم گلاب صاحب کو تین فرزند اور ایک لڑکی ہے ۔ ان میں سے دو بیٹے انہی کی طرح اولڈ کائنس اور اینٹک سکوں کا کاروبار کرتے ہیں ایک باغ عامہ کے پاس اور ایک سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کے قریب یہ کاروبار کرتے ہیں ۔ مسٹر گلاب نے بتایا وہ یومیہ تین چار سو روپئے بآسانی کما لیتے ہیں ۔ بہر حال مسٹر گلاب صاحب کی شخصیت ٹھیک ان قدیم سکوں کی طرح ٹھوس اور قیمتی ہے جسے وہی نظر پہچان سکتی ہے جو ’ اولڈ میں گولڈ ‘ دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو ۔۔