نئی دہلی ۔ 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) تہاڑجیل کے 12 عہدیداروں کو فرائض سے غفلت برتنے اور قیدیوں کو ممنوعہ اشیاء سربراہ کرنے کے الزام میں تین ہفتوں کے دوران معطل کردیا گیا جبکہ حالیہ دنوں میں نشہ وار قیدیوں کی اموات کے واقعات پیش آئے ہیں۔ دہلی کے وزیرداخلہ ستیدراجین کو پیش کردہ ایک رپورٹ میں تہاڑجیل کے عہدیداروں نے بتایا کہ 21 اپریل سے اب تک 3 اسسٹٹ سپرنٹنڈنٹس، 3 ہیڈوارڈس اور 3 وارڈس کو معطل کردیا گیا۔ ریاستی وزیر نے جیل کے احاطہ میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر متعلقہ عہدیداروں سے جواب طلب کیا تھا۔ تہاڑ جیل میں کل 2 قیدیوں کی مشتبہ حالت میں موت واقع ہوگئی تھی۔ بیشتر عہدیداروں کو جیل کے احاطہ میں موبائیل فونس، منشیات اور دیگر ممنوعہ اشیاء سربراہ کرنے اور بعض عہدیداروں کو فرائض سے غفلت برتنے پر معطل کردیا گیا جبکہ ایک کوٹھری میں ایک قیدی کی نعش پائی گئی تھی۔ جیل حکام نے بتایا کہ گذشتہ 2 ماہ میں قیدیوں کی تحویل سے 48 موبائیل فونس ضبط کرلئے گئے۔ باور کیا جاتا ہیکہ یہ ممنوعہ اشیاء جیل کے احاطہ میں اسمگلنگ کی گئی تھی
اور جب موبائیل فونس اس وقت لائے گئے ہوں گے جب قیدی اپنے رشتہ داروں سے ملاقات اور علاج کیلئے باہر جاتے ہیں اور دونوں واقعات میں قیدیوں کی حفاظت پر متعین پولیس ملازمین رقم لیکر ممنوعہ اشیاء فراہم کئے ہوں گے اور معمولی کرپشن کی وجہ سے سنگین مسائل پیدا ہورہے ہیں کیونکہ جیل کے احاطہ میں تشدد ، ٹیبل فیان بلیڈس، واٹر (برقی تار)، باورچی خانہ کے چاقو، حتی کہ مین ہول کے ڈھکن استعمال کرتے ہیں۔ جیل حکام نے سیکوریٹی کو سخت اور مؤثر بناتے ہوئے مزید 80 جامرس، 1,000 سی سی ٹی وی کیمرے اور مزید اسٹاف کی بھرتی کیلئے سفارش کی ہے۔ جیل میں فی الحال 14,000 قیدی ہیں اور مطلوبہ تعداد سے جیل میں 30 فیصد اسٹاف کی قلت پائی جاتی ہے۔ واضح رہیکہ ایک زیردریافت قیدی نے کل جیل میں داخل ہوتے ہی 5 قیدیوں پر اچانک حملہ کردیا تھا جبکہ پیر کے دن بھی ایک 40 سالہ قیدی کو چاقو گھونپ کر ہلاک کردیا گیا تھا۔