تھائی اپوزیشن کے احتجاجیوں کا جلوس‘ بند کی تیاری

بنکاک۔ 5؍جنوری (سیاست ڈاٹ کام)۔ ہزاروں مخالف حکومت احتجاجی مظاہرین نے آج پورے بنکاک میں جلوس نکالا تاکہ وزیراعظم انگلک شناواترا کے استعفیٰ کا مطالبہ کرسکیں اور دارالحکومت کا مجوزہ محاصرہ کرنے کی تجویز کو قطعیت دے سکیں تاکہ آئندہ ماہ مقرر وسط مدتی انتخابات کی کوشش کو ناکام بنایا جاسکے۔ اس جلوس کا مقصد 13 جنوری کے عظیم ترین بند کے لئے عوامی تائید حاصل کرنا ہے۔ اسی قسم کے احتجاجی جلوسوں کا منگل اور جمعرات کے دن منصوبہ بنایا گیا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹکس ریفارم کمیٹی کے ترجمان اکانت پرومفان نے کہا کہ احتجاجی 13 جنوری سے بنکاک پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ انھوں نے عہد کیا ہے کہ سرکاری عہدیداروں کو ملازمتوں کے لئے جانے سے روک دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ برقی توانائی اور پانی کی سربراہی سرکاری عمارتوں کو منقطع کردی جائے گی۔ نگرانکار نائب وزیراعظم سوراپونگ ٹوئی چکچائی کول نے جو امن و قانون کے انتظامیہ کے سرکاری مرکز کے انچارج بھی ہیں، کہا کہ عوام کو چاہئے کہ اپوزیشن کے بند کے منصوبہ کی تائید نہ کریں

جنھوں نے سرکاری عمارتوں کو برقی اور پانی کی سربراہی منقطع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بنکاک کے 20 بڑے چوراہوں پر قبضے اور بند کا منصوبہ نگران کار کابینہ کے اجتماعی استعفے کیلئے دباؤ ڈالنے بنایا جارہا ہے اور ایسی کارروائی قانون اور دیگر عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ اس کا ملک کی معیشت پر شدید منفی اثر مرتب ہوگا۔ حکومت کے نائب ترجمان انوسورن لامسارڈ نے کہا کہ برسراقتدار تھیوتھائی پارٹی کو خوف ہے کہ بنکاک بند سے معیشت کو درپیش نقصان میں 200 ارب بہت (تھائی لینڈ کی کرنسی) کا نقصان ہوگا۔ وزیراعظم انگلک شناواترا جو 2011ء میں برسراقتدار آئی تھیں، 2 فروری کو وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کرچکی ہیں تاکہ سیاسی بحران کا خاتمہ کرسکیں جب کہ حکومت مخالف مہم انھیں اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے چلائی جارہی ہے اور اب شدت اختیار کررہی ہے۔