تکریت پر دوبارہ قبضہ کیلئے عراقی فورسیس کی کارروائی

بغداد۔ 2 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) عراقی سکیورٹی فورسیس نے اپنے حلیف شیعہ اور سنی جنگجوؤں کی مدد سے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا آغاز کردیا ہے جس کا مقصد صدام حسین کے آبائی ٹاؤن ’’تکریت‘‘ کو اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے انتہا پسندوں کے قبضہ سے آزاد کرنا ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے یہ خبر دیتے ہوئے کہا کہ شمالی عراق کے بڑے حصہ پر عسکریت پسندوں کے قبضہ کی برخاستگی کے لئے اٹھایا جانے والا یہ ایک اہم قدم ہے۔ بغداد کے شمال میں تقریباً 130 کیلومیٹر دور واقع تکریت پر داعش کے انتہا پسندوں نے اس ملک کے دوسرے بڑے شہر موصل کے ساتھ گزشتہ موسم گرما میں قبضہ کرلیا تھا۔ قومی سکیورٹی فورسیس کے بکھر جانے کے بعد داعش انتہا پسندوں نے کئی سنی اکثریتی علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔ موصل کے راستہ پر واقع تکریت بھی عراق کے بڑے شہروں میں شمار کیا جاتا ہے جس پر داعش کا قبضہ ہے لیکن سکیورٹی فورسیس تاحال یہ قبضہ ختم کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں تاہم امریکی فضائی حملوں کے درمیان عراقی سپاہیوں کی پیش قدمی کے بعد اس شہر کو آزاد کرنے کی کوششوں میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ سکیورٹی فورسیس نے قریب ہی واقع بیجس ٹاؤن سے داعش کا قبضہ برخاست کردیا جہاں تیل کی ریفائنریز واقع ہیں، تاہم موصل کو داعش کے قبضہ سے آزاد کرنے کیلئے سکیورٹی فورسیس کو سب سے پہلے تکریت پر ان کا قبضہ برخاست کرنا ہوگا۔