احمد آباد 19 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق وی ایچ پی لیڈر پروین توگاڑیہ نے آج اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کردی جو انہوں نے تین دن قبل شروع کی تھی ۔ وہ ایودھیا میں رام مندر کے بشمول کئی مطالبات کے ساتھ بھوک ہڑتال کر رہے تھے ۔ انہں نے کہا کہ وہ ہندوتوا سیاست کا احیاء عمل میں لانے ملک بھر کا دورہ کرینگے ۔ 62 سالہ توگاڑیہ نے کہا کہ وہ ڈاکٹرس کے مشورہ پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھوک ہڑتال ختم کرنے مذہبی قائدین کے ہاتھوں شربت قبول کیا ۔ انہیں شربت پیش کرنے والوں میں اکھیلیشور داس مہاراج بھی شامل تھے ۔ توگاڑیہ نے تنظیمی انتخابات میں اپنے ایک حامی کی شکست کے بعد وشوا ہندو پریشد سے علیحدگی اختیار کرلی تھی ۔ وہ منگل سے اپنے مطالبات کی تائید میں بھوک ہڑتال پر تھے ۔ ان کے مطالبات میں رام مندر کی تعمیر ‘ غیر قانونی بنگلہ دیشی باشندوں کی واپسی ‘ کشمیر میں ہندووں کی دوبارہ باز آبادکاری اور دستور کے دفعہ 370 کی برخواستگی شامل ہے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے توگاڑیہ نے بی جے پی اور وزیر اعظم مودی پر تنقید کی اور کہا کہ یہ لوگ بھی اپنے پیشرووں کی طرح برے ثابت ہوئے ہیں ۔ یہ اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ 100 کروڑ ہندووں کے مسائل پر ملک بھر کا دورہ کرینگے ۔