!تنہا مقابلہ کا اعلان لیکن ہر پارٹی سے درپردہ مفاہمت

مفادات کی تکمیل کیلئے بڑی پارٹیاں مفاہمت پر مجبور

مقامی سیاسی جماعت کی سرگرمیاں اقلیتی قیادت کو اُبھرنے کی راہ میں رکاوٹ

حیدرآباد۔/10اپریل، ( سیاست نیوز) انتخابات میں سیاسی جماعتوں میں باہمی اتحاد اور انتخابی مفاہمت کوئی نئی بات نہیں لیکن بعض پارٹیاں ایسی بھی ہیں جو بظاہر تنہا مقابلہ کرنے کا اعلان تو کرتی ہیں لیکن خفیہ طور پر ایک سے زائد سیاسی جماعتوں سے مفاہمت کی جاتی ہے جس کا عوام کو علم نہیں ہوتا۔ ریاست میں مجوزہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے سلسلہ میں تلگودیشم اور بی جے پی نے کھل کر انتخابی مفاہمت کی جبکہ کانگریس اور سی پی آئی نے مفاہمت کا اعلان کیا۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور دیگر جماعتیں تنہا مقابلہ کررہی ہیں۔ عوام کے روبرو یہ پارٹیاں تنہا انتخابی میدان میں ہیں لیکن خفیہ طور پر کسی نہ کسی پارٹی سے باہمی سمجھوتہ کیا گیا تاکہ ایک دوسرے کے مفادات کی تکمیل ہوسکے۔اس طرح کی صورتحال میں پارٹی کے حقیقی اور سنجیدہ قائدین اور کارکنوں کا نقصان ہوتا ہے۔ یہی سب کچھ تلنگانہ میں انتخابی سرگرمیوں کے دوران دیکھنے کو ملا۔ خفیہ مفاہمت بھی اگر کسی ایک جماعت سے کی جائے تو پھر بھی قابل قبول ہے لیکن شہر کی ایک مقامی جماعت نے تو خفیہ مفاہمت کا مفہوم ہی تبدیل کردیا ہے اس نے ہر پارٹی سے کسی نہ کسی علاقے میں خفیہ مفاہمت کی تاکہ اپنے مفادات کی تکمیل کی جاسکے۔ بڑی پارٹیاں اس لئے بھی خفیہ مفاہمت کیلئے تیار ہوجاتی ہیں تاکہ یہ جماعت اضلاع میں ان کے ووٹ بینک پر اثر انداز نہ ہو۔ لوک سبھا اور اسمبلی امیدواروں کے انتخاب کے سلسلہ میں کئی مقامات پر اس طرح کی خفیہ مفاہمت کی اطلاع ملی ہے۔ شہر کی مقامی جماعت نے ابتداء میں تلنگانہ اور سیما آندھرا میں مقابلہ کرنے کا اعلان کیا اور دونوں علاقوں میں انتخابی مہم کے آغاز سے قبل ہنگامی دورے کرتے ہوئے بڑی سیاسی جماعتوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔

جب ان جماعتوں نے شہر میں اس پارٹی کے مفادات کی تکمیل سے اتفاق کرلیا تو مقامی جماعت نے اضلاع میں ایسے علاقوں سے امیدوار نہیں اُتارے جہاں مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ سیما آندھرا میں بھی بعض جماعتوں سے خفیہ طور پر ساز باز کرلی گئی اور ضابطہ کی تکمیل کے طور پر بعض امیدوار کھڑے کئے گئے۔شہر میں اپنی نشستوں کو بچانے کیلئے کی گئی اس خفیہ سودے بازی میں اقلیتی قائدین کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس، ٹی آر ایس اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائدین اس خفیہ مفاہمت کا شکار ہوگئے اور انہیں پارٹی نے ٹکٹ سے محروم کردیا۔ خفیہ مفاہمت کے تحت بڑی پارٹیاں مقامی جماعت کے حلقوں میں کمزور یا ان کی پسند کے امیدوار کھڑا کرنے پر راضی ہوجاتی ہیں جس کے بدلے مقامی جماعت ان پارٹیوں کے علاقوں کا رُخ نہیں کرتی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں بعض ایسے حلقوں سے امیدوار کھڑے نہیں کئے گئے جہاں اقلیتوں کی آبادی فیصلہ کن موقف رکھتی ہے۔

صرف اور صرف بعض پسندیدہ قائدین کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے اپنے امیدوار میدان میں اُتارنے سے گریز کیا گیا۔ اس طرح کی خفیہ مفاہمت سے ہر چناؤ میں اقلیتی قائدین کو اکثر ناانصافی کا سامنا کرنا پڑا۔ ہر پارٹی اپنے اقلیتی قائدین کو مناسب نمائندگی کا وعدہ کرتی ہے لیکن مقامی جماعت سے خفیہ مفاہمت کے سبب اقلیتوں کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ بعض پارٹیوں میں موجود اقلیتی سیل تو برائے نام ہے اور مقامی سیاسی جماعت ان پارٹیوں کے اقلیتی سیل کا رول ادا کررہی ہے۔کانگریس پارٹی، ٹی آر ایس اور وائی ایس کانگریس پارٹی کو خفیہ مفاہمت اور درپردہ تائید کے معاہدے کے تحت کئی قائدین کی امیدواری کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی گئی۔حد تو یہ ہے کہ بی جے پی سے بھی خفیہ مفاہمت سے گریز نہیں کیا گیا تاکہ مخالف پارٹیوں کے اقلیتی امیدواروں کی کامیابی کو روکا جاسکے۔ اس طرح دیگر پارٹیوں میں اقلیتی قیادت کو اُبھرنے سے روکنے کیلئے خفیہ مفاہمت ہی ذمہ دار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پارٹیاں اپنے اقلیتی قائدین کے احتجاج کو بھی اہمیت نہیں دیتیں۔