تمام طبقات کے ساتھ یکساں سلوک و ترقی سے تلنگانہ کی ترقی ممکن

ٹی آر ایس حکومت کے رویہ پر سخت تنقید ، احتجاجی جلسہ سے مختلف قائدین کا خطاب
حیدرآباد۔11مئی(سیاست نیوز)علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل علاقہ تلنگانہ کے تمام طبقات کی متحدہ جدوجہد کا نتیجہ ہے جس کو تلنگانہ میں برسراقتدار حکمران جماعت فراموش کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ آج یہاں اندرا پارک دھرناچوک پر تلنگانہ اے آئی ایس ایف اور اے آئی وائی ایف کے زیر اہتمام منعقدہ احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سی پی آئی کے رکن اسمبلی رویندر کمار ان خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ ایم ایل اے آر کرشنیا‘ سی پی آئی تلنگانہ اسٹیٹ جنرل سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی‘تلنگانہ اے آئی ایس ایف صدر اسٹالن‘ اے آئی وائی ایف تلنگانہ صدر وائی راملو کے علاوہ دیگر نے بھی اس احتجاجی دھرنے سے خطاب کیا۔ اندرون ایک سال ایک لاکھ جائیدادوں پر تقررات کے وعدے کو پورا کرنے کا حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا ۔ مسٹر رویند رکمار نے کہاکہ اندرون ایک سال ایک لاکھ جائیدادوں پر تقررات‘ کے جی تا پی جی مفت تعلیم کے وعدوں کی تکمیل کے بجائے تلنگانہ حکومت معاشی طور پر پسماندہ طبقات کا عرصہ حیات تنگ کررہی ہے۔ ایک سال کے اندر تمام محاذوں پر حکومت تلنگانہ کو ناکام قراردیتے ہوئے کہاکہ آج سرکاری محکموں میں جاری ہڑتال بالخصوص آرٹی سی اور برقی شعبہ کے ملازمین کی ہڑتال کے سبب عوام کو درپیش مسائل کی تمام ذمہ داری حکومت تلنگانہ پر عائد ہوگی ۔ ریاست تلنگانہ کا تعلیمی یافتہ طبقہ حکومت تلنگانہ کی غفلت اور کوتاہی کے سبب بے روزگاری کاشکار ہے۔انہوں نے نت نئے پراجکٹوں کے نام پرانتخابی وعدوں کو پس پشت ڈالنے کا بھی حکومت پر الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے تمام طبقات کے ساتھ یکساں سلوک اورترقی کے یکساں مواقع ہی ریاست کی بے مثال ترقی کی ضمانت ہوگا۔ایم ایل اے کرشنیا نے احتجاجی دھرنے ایک لاکھ جائیدادوں پر نئے تقررات کے ذریعہ علاقہ تلنگانہ کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا۔انہوں نے کہاکہ اعلانات سے وعدوں کی تکمیل ممکن نہیں ہے ۔ اس ضمن میں حکومت تلنگانہ کے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ سی پی آئی تلنگانہ اسٹیٹ جنرل سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے منعقد ہونے والے تمام احتجاجی مظاہروں کی تائید وحمایت کااعلان کیا۔انہوں نے بھی حکومت تلنگانہ کو تمام محاذوں پر ناکام قراردیتے ہوئے ریاست کے معاشی طور پر پسماندہ طبقات کے ساتھ انصاف او ریکساں سلوک کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا تاکہ عوام کا بھروسہ بحال کیا جاسکے۔