غزہ سٹی 8 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) حماس نے آج جنوبی شہر خان یونس میں ایک مکان پر مہلک فضائی حملہ کے بعد کہاکہ تمام اسرائیلیوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ حماس کے ترجمان سمیع ابو زھری نے ایک بیان میں کہاکہ خان یونس حملہ میں 7 افراد بشمول دو کمسن بچے شہید ہوگئے اور یہ جنگی جرم ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اب تمام اسرائیلیوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور یہ مزاحمت کے لئے ہمارا جائز حق ہے۔ غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملوں میں جملہ 12 فلسطینی شہید ہوئے۔ (تفصیلی خبر صفحہ 4 پر) ۔ اِس دوران اسرائیل نے اپنی فوج کو حکم دیا ہے کہ 40 ہزار سپاہیوں کو جو ریزرو میں ہیں طلب کرلیا جائے تاکہ زمینی کارروائی شروع کی جاسکے۔ اِن تمام کو غزہ سرحد پر متعین کیا جائے گا۔
وزیراعظم کے دفتر نے اِن اطلاعات کی توثیق نہیں کی کہ سکیورٹی کابینہ نے اِس درخواست کو منظوری دی ہے۔ نیتن یاہو نے وزیر دفاع، چیف آف اسٹاف اور اسرائیل کی داخلی سلامتی ایجنسی کے سربراہ کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔ نیتن یاہو نے اجلاس میں کہاکہ حماس نے صورتحال کو بڑھاوا دینے کا راستہ اختیار کیا ہے اور اُسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ دوسری طرف اسرائیلی ٹیلی ویژن اسٹیشنس نے کہاکہ تل ابیب کو راکٹ حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اِسے ’’آئیرن ڈوم ‘‘ ڈیفنس سسٹم کے ذریعہ بے اثر کردیا گیا۔ شہر میں فضائی حملہ کے سائرن بجائے گئے۔ اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ غزہ پٹی میں فلسطینی انتہا پسندوں کی جنوبی اسرائیل کے علاقہ میں سمندری راستہ سے مداخلت کاری کی کوشش ناکام بنادی گئی۔ فوجی ترجمان نے کہاکہ 4 حملہ آوروں کے ساحل پر پہونچتے ہی اُنھیں ہلاک کردیا گیا۔ اِس دوران عرب لیگ نے تازہ صورتحال پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ ترکی نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ پٹی پر حملوں کا سلسلہ فوری روک دے۔