صرف تلنگانہ پارٹیوں کی تائید کا فیصلہ ، اسٹیرنگ کمیٹی اجلاس کے بعد ترجمان حامد محمد خاں کا بیان
حیدرآباد۔/18اپریل،(سیاست نیوز) تلنگانہ پولٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مجوزہ انتخابات میں کسی ایک پارٹی کی تائید کے بجائے تلنگانہ جماعتوں کی تائید کا فیصلہ کیا ہے۔ جے اے سی کی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس آج حیدرآباد میں منعقد ہوا جس میں انتخابی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ صدر نشین پروفیسر کودنڈا رام کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں پانچ رکنی کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لیا گیا جسے موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے تشکیل دیا گیا تھا۔ اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پروفیسر کودنڈا رام اور جے اے سی ترجمان حامد محمد خاں نے کہا کہ تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی تائید نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ دونوں جماعتیں مخالف تلنگانہ اور آندھرائی جماعتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے غداروں کی بھی تائید نہیں کی جائے گی جنہوں نے تحریک کے دوران اسے کمزور کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ بعض جماعتوں نے تلنگانہ کے غداروں کو پارٹی میں شامل کرلیا ہے اور ٹکٹ بھی دیا گیا لیکن ایسے امیدواروں کی تائید جے اے سی نہیں کرے گی۔ جے اے سی نے تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں کی تائید کا فیصلہ کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ان پارٹیوں کے امیدواروں کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ ان جماعتوں میں کانگریس، ٹی آر ایس، سی پی آئی، بی جے پی اور نیو ڈیموکریسی شامل ہیں۔ جے اے سی نے کسی بھی پارٹی کا نام لئے بغیر امیدواروں کی تائید کا مسئلہ رائے دہندوں پر چھوڑ دیا ہے۔ کودنڈا رام نے کہا کہ تلنگانہ کے رائے دہندے باشعور ہیں اور وہ خود یہ فیصلہ کریں گے کہ کس امیدوار نے تلنگانہ تحریک میں کس حد تک رول ادا کیا تھا۔ جے اے سی کسی بھی پارٹی کے حق میں انتخابی مہم نہیں چلائے گی۔ اس کے علاوہ جے اے سی سے وابستہ قائدین کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کسی انتخابی پلیٹ فارم پر شریک نہ ہوں۔کودنڈا رام نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے سلسلہ میں کس نے تعاون کیا اور کس نے رکاوٹ پیدا کی عوام اچھی طرح واقف ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ کی مخالفت کرنے والی تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو ہرگز ووٹ نہ دیں۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ انتخابات میں تلنگانہ کے رائے دہندے اپنے شعور کا مظاہرہ کریں گے۔ واضح رہے کہ انتخابی تائید کے مسئلہ پر جے اے سی میں اختلافِ رائے تھا۔بیشتر قائدین کی رائے تھی کہ ٹی آر ایس کی تائید کی جائے تاکہ وہ تلنگانہ کی تعمیرِ نو میں اہم رول ادا کرسکے۔ جے اے سی کے غیرجانبدارانہ موقف کا مقصد یہ ہے کہ جو پارٹی بھی اقتدار میں آئے گی اس سے عوامی مسائل کی یکسوئی کا کام لیا جائے اور عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کیلئے دباؤ بنایا جائے۔ جے اے سی کے اس موقف سے ٹی آر ایس کو مایوسی ہوئی ہے کیونکہ موافق تلنگانہ ووٹ اب مختلف جماعتوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔