تلگودیشم کے 10 ارکان ایک ہفتہ کیلئے اسمبلی سے معطل

ایم پی نظام آباد کے خلاف ریمارک پر معذرت کرنے ٹی آر ایس کا مطالبہ ۔ معطل ارکان کو احتجاج پر گرفتار کرلیا گیا
حیدرآباد 13 نومبر ( سیاست نیوز ) تلگودیشم پارٹی کے دس ارکان اسمبلی کو ایوان سے ایک ہفتے کیلئے معطل کردیا گیا ۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی تھی ۔ ابتداء میں اسپیکر مدھوسدن چاری نے ان ارکان کو ایک دن کیلئے معطل کرنے کا اعلان کیا تاہم بعد میں ایک ہفتے کیلئے معطلی کا اعلان کیا ۔ تلگودیشم ارکان ایوان کے وسط میں پہونچ کر احتجاج کر رہے تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ بجٹ مباحث پر اظہار خیال کی اجازت د ی جائے ۔ وزیر پارلیمانی امور ہریش راؤ نے ان ارکان کی معطلی کی قرار داد پیش کرکے ایک ہفتے کیلئے معطلی کی سفارش کی ۔ اسپیکر مدھو سدن چاری نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آیا ان ارکان کوا یک دن کیلئے معطل کیا جائے اور ندائی ووٹ سے منظوری حاصل کی جائے ۔ انہوں نے بعد میں اعلان کیا کہ ارکان کو ایک دن کیلئے اسمبلی سے معطل کیا جاتا ہے ۔ تاہم مقننہ سکریٹری ایس راجہ سدارام نے اسپیکر کے کان میں کچھ کہا جس پر اسپیکر نے کہا کہ ان ارکان اسمبلی کو ایک ہفتے کیلئے معطل کیا جارہا ہے ۔ ابتداء میں ہریش راؤ نے اپنی قرار داد میں آٹھ ارکان اسمبلی کے نام شامل کئے تھے تاہم بعد میں انہوں نے تلگودیشم قائد مقننہ ای دیاکر راؤ اور سینئر رکن اسمبلی اے ریونت ریڈی کے نام بھی اس میں شامل کئے ۔ بعد ازاں تلگودیشم ارکان کو اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب وہ اسمبلی کے باہر دھرنا منظم کررہے تھے۔ اسمبلی میں 10تلگودیشم ارکان کو ایک ہفتہ کیلئے معطل کردیا گیا جس کے بعد ارکان احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی کے باہر پہونچے اور راستہ روکو احتجاج کیا۔ پولیس اور احتجاجی ارکان کے درمیان کئی دفعہ بحث و تکرار ہوئی اور تلگودیشم ارکان کو مجسمہ مہاتما گاندھی کے پاس جانے سے روک دیا گیا۔ دیاکر راؤ اور ریونت ریڈی کی قیادت میں معطل ارکان حکومت اور چیف منسٹر کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ اسمبلی میں ریونت ریڈی کی جانب سے ایم پی نظام آباد کویتا کی جانب سے جامع سماجی سروے میں دو مقامات پر نام درج کرانے کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ چیف منسٹر اور وزرا نے ریونت ریڈی سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا جس کے بعد تلگودیشم ارکان کو ایک ہفتہ کیلئے ایوان سے معطل کردیا گیا۔ اسمبلی لابیز میں احتجاجی تلگودیشم ارکان نے کچھ دیر تک دھرنا منظم کیا اور نعرہ بازی کی۔ بعد میں ارکان نے مجسمہ گاندھی کے پاس جانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے اس راستہ کو مقفل کردیا۔ ارکان نے مجسمہ کے پاس جانے کی اجازت دیئے جانے کا مطالبہ کیا۔ پولیس عہدیداروں نے کہا کہ اسپیکر کی ہدایت کے مطابق احاطہ اسمبلی میں احتجاج کی اجازت نہیں دی جاسکتی جس پر ارکان اسمبلی کے باہری حصہ سے مجسمہ گاندھی کے روبرو احتجاجاً بیٹھ گئے اور احتجاج کرنے لگے۔ کافی دیر احتجاج جاری رہا اور پولیس نے الکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کو فلمبندی سے روکنے کی کوشش کی۔ احتجاج کے سبب اسمبلی کے باہر ٹریفک درہم برہم ہوگئی۔ پولیس نے ارکان کی گرفتاری کیلئے گاڑیوں کو طلب کرلیا جس پر ارکان نعرہ بازی کرکے رویندرا بھارتی چوراہا پہونچے اور راستہ روکو احتجاج کیا۔ اس مرحلہ پر پولیس نے انہیں گرفتار کرکے ٹریفک کو بحال کیا۔ دیاکر راؤ اور ریونت ریڈی نے میڈیا سے کہا کہ کے سی آر کا خاندان حکمرانی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ثبوت کے ساتھ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ایم پی نظام آباد نے دو مقامات پر تفصیلات درج کروائیں۔ پولیس نے جن ارکان کو حراست میں لے کر گوشہ محل منتقل کیا ان میں ای دیاکر راؤ، ریونت ریڈی، آر کے گاندھی، پرکاش گوڑ، جی سائینا، راجندر ریڈی، گوپی ناتھ، ایس وینکٹ ویریا، ویویکانند اور منچی ریڈی کشن ریڈی شامل ہیں۔