تلگودیشم کے 10 ارکان اسمبلی بجٹ سیشن کے اختتام تک معطل

حیدرآباد ۔ 9 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی میں آج تلگو دیشم کے 10 ارکان کو بجٹ سیشن کے اختتام تک ایوان سے معطل کردیا گیا۔ ہفتہ کو گورنر کے خطبہ کے دوران ہنگامہ آرائی اور قومی ترانہ کی مبینہ توہین کے سلسلہ میں یہ کارروائی کی گئی۔ تلگو دیشم ارکان نے اس مسئلہ پر معذرت خواہی سے انکار کردیا جس کے بعد وزیر امور مقننہ ہریش راؤ نے معطلی کی قرارداد پیش کی جسے منظور کرلیا گیا۔ اس مسئلہ پر کانگریس کے ایک رکن سمپت کمار نے معذرت خواہی کرلی اور وہ معطلی کی کارروائی سے بچ گئے۔ شور و غل اور ہنگامہ آرائی کے دوران تلگو دیشم ارکان کو مارشلوں کے ذریعہ ایوان سے باہر لیجایا گیا۔ بی جے پی نے تلگو دیشم ارکان کی معطلی کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا جبکہ کانگریس نے معطلی کی مدت میں کمی کی سفارش کی۔ تاہم حکومت نے اسے منظور نہیں کیا۔ ایوان کی کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی تلگو دیشم ارکان ایس سی ایس ٹی طبقات سے ناانصافی کے مسئلہ پر احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔ احتجاجی ارکان کے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھے جن پر حکومت کی جانب سے مالا مادیگا طبقات سے ناانصافی کا الزام عائد کیا گیا تھا ۔ حکومت نے تلگو دیشم ارکان سے اپیل کی کہ وہ ہفتہ کے دن پیش آئے واقعہ پر غیر مشروط معذرت خواہی کریں۔ تاہم فلور لیڈر تلگو دیشم ای دیاکر راؤ نے مالا مادیگا طبقات سے کی جارہی ناانصافیوں کا مسئلہ اٹھایا۔ ایوان میں شور و غل اور نعرہ بازی کے درمیان وزیر امور مقننہ ہریش راؤ نے 10 ارکان کی معطلی کی قرارداد پیش کی جسے ندائی ووٹ سے منظور کرلیا گیا۔ معطلی کے باوجود تلگو دیشم ارکان اسپیکر کے پوڈیم کے قریب نعرہ بازی کرتے رہے، جس پر مارشلوں کو طلب کرلیا گیا ۔ کئی ارکان کو مارشلس اپنے ہاتھوں پر اٹھاکر ایوان سے باہر لے گئے۔ جن ارکان کو معطل کیا گیا، ان میں تلگو دیشم فلور لیڈر ای دیاکر راؤ، ریونت ریڈی ، اے گاندھی ، ایم گوپی ناتھ ، کرشنا راؤ ، پرکاش گوڑ ، راجندر ریڈی ، ایس وینکٹ ویریا ، ویویکانند اور جی سائنا شامل ہیں۔ پارٹی کے دو ارکان منچی ریڈی کشن ریڈی اور آر کرشنیا ایوان سے غیر حاضر تھے۔ ایوان کی کارروائی سے قبل ہفتہ کے دن کی ہنگامہ آرائی پر فلور لیڈرس کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ اجلاس میں کئے گئے فیصلہ کے مطابق وزیر امور مقننہ نے قومی ترانہ کی توہین کے ذمہ دار ارکان سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ تلگو دیشم ارکان نے اس مطالبہ پر کوئی توجہ نہیں دی اور احتجاج شروع کردیا ۔ اسپیکر نے اس مسئلہ پر فلور لیڈر دیاکر راؤ کو اظہار خیال کا موقع دیا لیکن انہوں نے نفس مسئلہ پر کچھ بھی کہنے سے گریز کیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ گورنر پر حملہ اور قومی ترانہ کی توہین ایک سنگین مسئلہ ہے لہذا اسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ تلگو دیشم ارکان ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ کے مقصد سے آئے ہیں لہذا معطلی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ تلگو دیشم ارکان کی معطلی کے بعد قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے کہا کہ قومی ترانہ کا اہتمام ضروری ہے اور گورنر کی آمد اور قومی ترانہ کو پڑھنے کے دوران اپوزیشن کے علاوہ برسر اقتدار جماعت کی جانب سے بھی ہنگامہ آرائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جس پارٹی کے ارکان بھی اس کیلئے ذمہ دار پائے جائیں ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کے چیمبر میں جو ویڈیو فوٹیج دکھایا گیا ، وہ مکمل نہیں ہے۔ حکومت کو شفافیت کے ساتھ تمام زاویوں سے ویڈیو ریکارڈنگ پیش کرنی چاہئے۔ کانگریس کے رکن سمپت کمار نے ریمارک کیا کہ بعض ایسے افراد اس مسئلہ کو اٹھا رہے ہیں ، جن کے اداروں میں قومی ترانہ نہیں پڑھا جاتا۔ انہوں نے مکمل فوٹیج کا جائزہ لینے اور ٹی آر ایس ارکان کے خلاف کارروائی کی مانگ کی۔ ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت مکمل فوٹیج کے ساتھ دوبارہ فلور لیڈرس کا اجلاس طلب کرنے تیار ہیں۔ ایک مرحلہ پر ہریش راؤ نے سمپت کمارکی معطلی کے لئے قرارداد پڑھنی شروع کردی، تاہم قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے مداخلت کرتے ہوئے سمپت کمار کو معذرت خواہی کی ہدایت دی جس پر سمپت کمار نے ایوان سے معذرت خواہی کی۔ بی جے پی فلور لیڈر ڈاکٹر لکشمن نے تجویز پیش کی کہ مکمل فوٹیج کے مشاہدہ کے ذریعہ دیگر ارکان کی نشاندہی کی جائے جو ہنگامہ آرائی میں ملوث تھے۔ سیاسی وابستگی سے بالا تر ہوکر کارروائی کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے سیشن کے اختتام تک تلگو دیشم ارکان کی معطلی کی مخالفت کی۔ ہریش راؤ نے کہا کہ بارہا اظہار خیال کا موقع دینے کے باوجود تلگو دیشم ارکان نے معذرت خواہی نہیں کی جس کے سبب معطلی کا فیصلہ کرنا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ قومی ترانہ کی توہین کے سلسلہ میں قوانین موجود ہیں جس کے تحت تین سال کی قید بھی ہوسکتی ہے۔ جانا ریڈی نے بھی سیشن کے اختتام تک معطلی کے فیصلہ پر نظرثانی کی تجویز پیش کی۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے مداخلت کرتے ہوئے معطلی کے فیصلہ کو درست قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ معطلی کے فوری بعد جائزہ لینے کے بجائے چند دن گزرنے دیجئے ، حکومت اس وقت غور کرے گی۔ چائے کے وقفہ کے بعد جب دوبارہ اجلاس شروع ہوا، اس وقت بی جے پی ارکان نے تلگو دیشم ارکان کی معطلی کے خلاف بطور احتجاج ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔