تلگودیشم کے متعدد ارکان اسمبلی ٹی آر ایس میں شمولیت کے خواہاں

تلنگانہ سے زرد جماعت کا مکمل صفایا کرنے گلابی جماعت کی کوشش
حیدرآباد /10 اکٹوبر ( این ایس ایس ) آندھراپردیش کے چیف منسٹر اور تلگودیشم پارٹی کے صدر این چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے تلنگانہ میں اپنی پارٹی کے ارکان مقننہ اور دیگر قائدین کو حکمراں ٹی آر ایس میں جانے سے روکنے کیلئے کی جانے والی انتھک کوششوں کے باوجود ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس پارٹی سے انحراف کا سلسلہ جاری ہے ۔ جس کا واضح ثبوت آج اس بات سے ملا کہ اضلاع تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی کی بس یاترا کے آغاز کے موقع پر اس کے تین ارکان اسمبلی غیر حاضر رہے ۔ جس سے ٹی آر ایس کے سربراہ کے سی آر کی جانب سے دی جانے والی ترغیبات پر راغب ہونے ان کے پوشیدہ ایجنڈہ کا اظہار ہوگیا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تلگودیشم پارٹی کے 5 ارکان مقننہ نے گذشتہ روز مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کی تھی ۔ اس دوران تلنگانہ تلگودیشم کے مزید دو ارکان اسمبلی کی ٹی آر ایس میں شرکت کے امکانات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سریلنگم پلی کے رکن اسمبلی آر گاندھی اور ستوپلی کے رکن اسمبلی ایس وینکٹا ویریا بھی تلگودیشم کو خیرباد کہتے ہوئے بہت جلد ٹی آر ایس میں شمولیت کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ اس مقصد کیلئے صنعت نگر کے رکن اسمبلی طلاسانی سرینواس یادو نے ترغیب دی تھی ۔ باور کیا جاتا ہے کہ تلگودیشم کے باغی ارکان اسمبلی اب ابراہیم پٹنم کے رکن اسمبلی منچی ریڈی کشن ریڈی کو بھی ٹی آر ایس میں شمولیت کی دعوت دے رہے ہیں تاہم مسٹر ریڈی نے تاحال کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ باور کیا جاتا ہے کہ گلابی پرچم والی جماعت تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے سربراہ اور تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ علاقہ تلنگانہ سے زرد پرچنم والی جماعت تلگودیشم کا مکمل صفایا کرنے کی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔