تلگودیشم کو اقتدار پر لانے کا مشورہ،وائی روی کی تلگودیشم میں شمولیت، صدر پارٹی چندرابابو کا خطاب

حیدرآباد۔ 23؍مارچ (سیاست نیوز)۔ صدر تلگودیشم پارٹی مسٹر این چندرابابو نائیڈو نے پرزور الفاظ میں کہا ہے کہ ریاست (تلنگانہ و سیما آندھرا) میں ترقی دینا ہو تو تلگودیشم پارٹی کو اقتدار میں لانا ضروری ہے۔ لہٰذا انھوں نے تلنگانہ و سیما آندھرا عوام سے آئندہ انتخابات میں تلگودیشم پارٹی کو بھاری اکثریت سے منتخب کرکے برسراقتدار لانے کی پرزور اپیل کی۔ آج یہاں این ٹی آر ٹرسٹ بھون میں رکن اسمبلی ایسٹ وجئے واڑہ کانگریس پارٹی مسٹر وائی روی کی تلگودیشم پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے پر ان کا پارٹی میں کھنڈوا اوڑھاکر خیرمقدم کرتے ہوئے مسٹر چندرابابو نائیڈو نے اس موقع پر موجود پارٹی کے سینکڑوں حامیوں و کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بعض چند قائدین تلنگانہ تلگودیشم پارٹی محض اپنے سیاسی مفادات کے لئے تلنگانہ راشٹرا سمیتی میں شامل ہورہے ہیں تو دیگر جماعتوں کے قائدین (بشمول تلنگانہ راشٹرا سمیتی) کی کثیر تعداد تلگودیشم پارٹی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔ علاوہ ازیں خصوصی طور پر سیما آندھرا علاقوں میں کانگریس پارٹی بالکلیہ طور پر برائے نام ہوکر رہ گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ تلگودیشم پارٹی کو تلنگانہ اور سیما آندھرا علاقوں میں زبردست عوامی مقبولیت حاصل ہوچکی ہے، جس کے نتیجہ میں عوام نے بھی آئندہ انتخابات میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش ریاستوں میں تلگودیشم پارٹی کو ہی اقتدار سونپنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ صدر تلگودیشم نے پارٹی قائدین و کارکنوں کی زبردست ستائش کرتے ہوئے کہا کہ محض پارٹی کارکنوں و قائدین سے ہی تلگودیشم پارٹی نہ صرف برقرار ہے بلکہ مستحکم ہے جب کہ تلگودیشم پارٹی کو گزشتہ دس سال سے اقتدار بھی حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود تلگودیشم پارٹی کے حقیقی قائدین و کارکنوں نے پارٹی سے کسی قسم کی بے وفائی نہیں کی اور نہ ہی کوئی دل بدلی کی بلکہ ہمیشہ پارٹی کو مضبوط و مستحکم بنانے میں ہی مصروف رہے۔ مسٹر چندرابابو نائیڈو نے پارٹی قائدین و کارکنوں کے صبر و تحمل کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جن پارٹی قائدین و کارکنوں کی جانب سے پارٹی پرچم لہرائے جاتے رہے، ان میں سے کسی ایک قائد و کارکن کو بھی کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں ہمارے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہم تمام کو متحدہ جدوجہد کرکے پارٹی میں ڈسپلن کی برقراری کو یقینی بناکر اخلاقی اقدار پر مبنی سیاست کرنے کی پرزور خواہش کی۔ انھوں نے کہا کہ 30 سال سے تلگودیشم پارٹی اپنا ایک علیحدہ و خصوصی موقف رکھتی ہے۔ مسٹر چندرابابو نائیڈو نے کانگریس پارٹی اور تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو حذفِ ملامت بناتے ہوئے کہا کہ ان دونوں ہی پارٹیوں کو تلنگانہ و سیما آندھرا عوام بالکلیہ طور پر نظر انداز کردیں گی اور تلگودیشم پارٹی کو بہرصورت برسراقتدار لانے میں اس مرتبہ اپنا ایک اہم رول ادا کریں گے۔