تلگودیشم پر سیاست کو تجارت بنانے کا الزام

آندھرا پردیش اسمبلی پرائیویٹ لمیٹڈ میں تبدیل: بی ستیہ نارائنا
حیدرآباد /17 مارچ (سیاست نیوز) سابق صدر پردیش کانگریس بی ستیہ نارائنا نے کہا کہ تلگودیشم نے سیاست کو تجارت بنا لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نئی راجدھانی کے لئے بڑے پیمانے پر کسانوں سے زبردستی اراضی حاصل کرکے کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، یعنی اس سلسلے میں ریئل اسٹیٹ کاروبار کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم عالیشان دارالحکومت بنانے کے خلاف نہیں ہیں، لیکن کسانوں کی اراضی زبردستی حاصل کرنے کے خلاف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اے پی اسمبلی میں حکمراں تلگودیشم کا رویہ جمہوری اصولوں کے خلاف ہے، جب کہ تلگودیشم قائدین بالخصوص وزراء غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عددی طاقت کا ایوان میں ناجائز فائدہ اٹھاکر اپوزیشن کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولاورم پراجکٹ کو نقصان پہنچانے کے لئے دیگر پراجکٹ کو چیف منسٹر اے پی منظر عام پر لا رہے ہیں، جس سے مذکورہ پراجکٹ کے وجود کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس پراجکٹ کے لئے بجٹ میں 1400 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کرکے عوامی فنڈ کا بیجا استعمال کیا گیا ہے، لیکن کانگریس پارٹی تلگودیشم کی بے قاعدگیوں کا پردہ عوام کے درمیان ضرور فاش کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ تقسیم ریاست بل میں پولاورم کو قومی پراجکٹ کا درجہ دیا گیا ہے، تاہم مرکزی حکومت نے بجٹ میں اس پراجکٹ کے ساتھ ناانصافی کی ہے، جب کہ چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو صرف تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تلگودیشم حکومت نے اپنے 9 ماہ کے اقتدار میں عوام کو مایوس کیا ہے، کیونکہ اپنے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں میں سے کوئی ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔