حیدرآباد /9 اپریل ( سیاست نیوز ) تلگودیشم پارٹی کو علاقہ تلنگانہ میں کئی باغی امیدواروں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ تلگودیشم بی جے پی اتحاد کے سبب اپنی نشستوں سے محروم قائدین میں بیشتر قائدین نے بحیثیت آزاد امیدوار اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے اور یہی صورتحال بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین کی بھی ہے ۔ دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد کے نتائج دونوں جماعتوں کے قائدین کیلئے بہترین نظر نہیں آرہے ہیں چونکہ یہ اتحاد عملی طور پر علامتی بنتا جارہا ہے اور دونوں سیاسی جماعتوں کے قائدین و کیڈر میں ایک دوسرے کے امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم نہ چلانے کے متعلق فیصلے کئے جارہے ہیں ۔ تلگودیشم پارٹی مہم چلانے کیلئے تیار نظر نہیں آرہے ہیں ۔ دونوں جماعتوں کے قائدین کے درمیان جاری اس رسہ کشی کو 12 اپریل سے قبل ختم کرنے کی کوشش شروع ہوچکی ہے
اور دونوں سیاسی جماعتوں کے اہم قائدین کی جانب سے اس مسئلہ میں مداخلت کا آغاز ہوچکا ہے کہ اپنے پارٹی کے باغی امیدواروں کو سمجھایا جاسکے ۔ چندرا بابو نائیڈو علاقہ تلنگانہ میں داخل ہونے والے پرچہ نامزدگی کی تفصیلات پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین بھی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے باغی قائدین اپنے پرچہ نامزدگی سے دستبردار ہوجائیں اور دونوں جماعتوں کے امیدواروں کیلئے انتخابی مہم چلائیں لیکن ایسا اس وقت ممکن ہے جب دونوں جماعتوں کے قائدین اپنے باغی امیدواروں کو دستبردار کروانے میں کامیاب ہوجائیں ۔ مسٹر آر کرشنیا جنہیں تلگودیشم پارٹی نے حلقہ اسمبلی ایل بی نگر سے امیدوار بنایا ہے اور مبینہ طور پر وہ تلگودیشم پارٹی کے تلنگانہ میں چیف منسٹر کے امیدوار ہیں ۔ ان کے خلاف نہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین صف آراء ہیں بلکہ خود تلگودیشم پارٹی کے ایل بی نگر سے تعلق رکھنے والے قائدین جو کہ ٹکٹ کے خواہشمند تھے وہ بھی بی سی قائد آر کرشنیا کے حق میں مہم چلانے کیلئے تیار نظر نہیں آرہے ہیں ۔
آج جب مسٹر آر کرشنیا حلقہ اسمبلی ایل بی نگر سے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کرنے کیلئے روانہ ہوئے تو ان کی کار پر پتھراؤ بھی کیا گیا اور کہا جارہا ہے کہ تلگودیشم پارٹی کے ناراض قائدین کی جانب سے اس انداز میں برہمی کا اظہار کیا گیا اور پتھراؤ کرتے ہوئے ان کی گاڑی کو نقصان پہونچایا ۔ علاقہ ازیں حلقہ پارلیمنٹ ملکاجگری میں بھی تلگودیشم پارٹی کو اندرونی خلفشار کے علاقہ بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہی صورتحال کئی دیگر حلقہ جات اسمبلی و پارلیمان کی بھی ہے لیکن تلگودیشم پارٹی اعلی قائدین کا کہنا ہے کہ اندرون 2 ، 3 یوم ان حالات پر قابو پاتے ہوئے اتحاد کو مستحکم بنالیا جائے گا جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اس طرح کی کوشش کی اطلاعات بھی موصول نہیں ہو رہی ہیں ۔