ہندوپور کے مسلم رکن اسمبلی کو ٹکٹ سے محروم کرنے کی سازش، بالا کرشنا ٹکٹ کے دعویدار
حیدرآباد 11 اپریل (سیاست نیوز) تلگودیشم پارٹی پر چڑھتا زعفرانی رنگ بتدریج سامنے آتا جارہا ہے۔ تلگودیشم پارٹی نے علاقہ تلنگانہ میں 119 حلقہ جات اسمبلی میں صرف 4 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیئے ہیں جن میں 3 کا تعلق شہر سے ہے اور سیما آندھرا علاقوں کی جاری کردہ پہلی فہرست میں ایک بھی مسلم نام شامل نہیں تھا بلکہ صرف حلقہ پارلیمنٹ نندیال سے جناب این ایم ڈی فاروق کو تلگودیشم پارٹی نے ٹکٹ دیا اور اب تلگودیشم پارٹی 2009 ء میں کامیاب ہونے والے واحد مسلم تلگودیشم رکن اسمبلی جناب پی عبدالغنی کی نشست ہندوپور سے اُنھیں محروم کرنے کی منصوبہ بندی کرچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسٹر پی عبدالغنی کو ہندوپور حلقہ اسمبلی چھوڑنے کے لئے کہا جاچکا ہے چونکہ مسٹر پی عبدالغنی اِس نشست سے صدر تلگودیشم پارٹی مسٹر این چندرابابو نائیڈو کے نسبتی برادر و سمدھی مسٹر این بالا کرشنا مقابلہ کے خواہاں ہیں۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب پارٹی نے ہندوپور اسمبلی حلقہ سے این بالا کرشنا کے مقابلہ کو تقریباً قطعیت دے دی ہے اور بہت جلد اِس کا اعلان بھی کیا جانے والا ہے۔ تلگودیشم پارٹی کے بی جے پی سے اتحاد کے بعد تلگودیشم پارٹی کا سیکولر کردار مشکوک ہوتا جارہا ہے جبکہ مسٹر این چندرابابو نائیڈو اِس بات کا دعویٰ کررہے ہیں کہ بی جے پی سے اتحاد کے باعث تلگودیشم کا سیکولر کردار متاثر نہیں ہوگا۔ اِن کے ان دعوؤں کے برعکس اُن کے اقدامات سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ تلگودیشم پارٹی پر زعفرانی رنگ چڑھنے لگا ہے۔