تیز رفتار ترقی کیلئے ضلع کھمم کی تقسیم ، حامیوں کو چیف منسٹر کے سی آر کا تیقن
حیدرآباد۔/5ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو آج اس وقت زبردست طاقت حاصل ہوئی جب کھمم ضلع سے تعلق رکھنے والے تلگودیشم کے سابق وزیر تملا ناگیشور راؤ ضلع کے تمام اہم تلگودیشم قائدین کے ساتھ ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ بھون میں منعقدہ ایک بڑے جلسہ عام میں تملا ناگیشورراؤ اور ان کے حامیوں کا استقبال کیا اور انہیں پارٹی کا کھنڈوا پہناکر ٹی آر ایس میں شامل کیا۔ تملا ناگیشورراؤ کی شمولیت سے کھمم ضلع میں تلگودیشم پارٹی کا عملاً صفایا ہوچکا ہے۔ ناگیشورراؤ کے ہمراہ رکن قانون ساز کونسل بالا سانی، ضلع پریشد صدرنشین کویتا، ضلع صدر تلگودیشم کے علاوہ 18زیڈ پی ٹی سی ارکان، ایم پی ٹی سی اور بڑی تعداد میں سرپنچوں نے تلگودیشم کو خیرباد کہتے ہوئے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ ہزاروں کی تعداد میں ناگیشوراؤ کے حامی تقریباً 3000 گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ کھمم سے حیدرآباد پہنچے۔ تلنگانہ بھون اور اس کے اطراف کا سارا علاقہ ناگیشور راؤ کے حامیوں سے بھرچکا تھا۔ چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ بھی ہزاروں کی تعداد میں ناگیشورراؤ کے حامیوں کو دیکھ کر جذبات سے بے قابو ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اس قدر بڑی تعداد میں شرکت کی توقع نہیں تھی ورنہ نظام کالج گراؤنڈ پر جلسہ کا اہتمام کیا جاتا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل میں تعاون کیلئے ناگیشورراؤ ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے ناگیشورراؤ سے اپنے دیرینہ روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات سے قبل ہی انہوں نے ناگیشورراؤ کو ٹی آر ایس میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی ہمہ جہتی ترقی کو یقینی بنانے میں ناگیشورراؤ کا بھی اہم رول رہے گا، انہیں اپنی ذمہ داری کیلئے تیاررہنا چاہیئے۔ کے سی آر نے کہا کہ ان کی پارٹی سیاست کرنے پر یقین نہیں رکھتی بلکہ پارٹی کا اہم ایجنڈہ تلنگانہ کی ترقی ہے اور وہ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے تملا ناگیشورراؤ اور ان کے حامیوں کا ٹی آر ایس میں استقبال کیا اور کہا کہ اس سے پارٹی مستحکم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ کیلئے کئی تحریکات اُٹھیں اور بے شمار افراد نے قربانیاں پیش کیں۔ کے سی آر نے کہا کہ اس مرتبہ سارے تلنگانہ نے متحد ہوکر جدوجہد کی اور علحدہ ریاست کو حاصل کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ 2982میں وہ اور تملا ناگیشورراؤ نے اسمبلی کے لئے مقابلہ کیا تھا لیکن کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ اس وقت سے آج تک ناگیشورراؤ کے ساتھ ان کے بہتر روابط ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ کھمم کو ایک مثالی ضلع کے طور پر ترقی دی جائے گی اور حکومت ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع کی تشکیل کے موقع پر کتہ گوڑم ہیڈکوارٹر کے ساتھ ایک اور ضلع قائم کیا جائے گا۔ کے سی آر نے کہا کہ ترقی کے ایجنڈہ کے ساتھ وہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ تملا ناگیشور راؤ نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں سنہرے تلنگانہ کی تشکیل ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں مختلف سیاسی تبدیلیوں کیلئے وہ اور کے سی آر نے تبدیلیوں میں اہم رول ادا کیا۔ تلنگانہ کو ملک کی دیگر ریاستوں میں اولین مقام دلانے کیلئے کے سی آر نے مجھے ٹی آر ایس میں مدعو کیا ہے۔ تلنگانہ کی تعمیر نو میں انہوں نے کے سی آر سے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ ہر موقع پر وہ شانہ بہ شانہ شامل رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کھمم کے سات منڈلوں کے عوام کے ساتھ مکمل انصاف کیا جائے گا جنہیں مرکز نے جبراً آندھرا پردیش میں ضم کردیا ہے۔ ٹی آر ایس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر کیشورراؤ، ریاستی وزراء این نرسمہا ریڈی، جگدیشورریڈی اور دوسرے اس موقع پر موجود تھے۔