تلنگانہ کے 4693 سرکاری اسکولس پینے کے پانی سے محروم

حیدرآباد /13 نومبر (سیاست نیوز) ریاستی وزیر تعلیم جگدیشور ریڈی نے کہا کہ بیت الخلاء اور پینے کے پانی کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے طالبات میں ترک تعلیم کا رجحان بڑھنے کا الزام بے بنیاد ہے۔ آج تلنگانہ قانون ساز کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران مختلف ارکان کی جانب سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تلنگانہ میں جملہ 28,982 سرکاری اسکولس ہیں، جن میں صرف 2122 اسکولس میں بیت الخلاء اور 4693 اسکولس میں پینے کے پانی کی سہولت نہیں ہے۔ تلنگانہ حکومت اس پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور آئندہ سال اگست تک ان سرکاری مدارس میں پینے کے پانی اور بیت الخلاء کی سہولت فراہم کردی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ ان اسکولوں میں پینے کے پانی کے متبادل انتظام کی عہدہ داروں کو ہدایت دی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے مرکز کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے نرمل بھارت نرمان کے تحت 190 کروڑ روپئے منظور کرنے کی اپیل کی تھی، تاہم مرکزی حکومت نے اس اسکیم کو برخاست کرکے سوچھ بھارت اسکیم کا آغاز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم مرکزی حکومت سے رابطہ بنائے ہوئے ہے۔