امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں بند ، اگزٹ پول سروے کے مطابق کانگریس کو 4 تا 5 نشست
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر کے سی آر کو پہلے سے ہی اس بات کا علم تھا اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات ایک ساتھ منعقد کرانے کی صورت میں آندھرا پردیش میں پیش آنے واقعات کی طرح یہاں بھی ایسے ناخوشگوار واقعات ہوسکتے ہیں ۔ اسی لیے انہوں نے قبل از وقت اسمبلی انتخابات کراتے ہوئے اپنی کامیابی کو یقینی بنالیا ۔ واضح رہے کہ آندھرا پردیش میں گذشتہ دنوں اسمبلی کی 175 نشستوں کے ساتھ ساتھ پارلیمان کی 25 نشستوں پر بھی انتخابات منعقد کرائے گئے ۔ جہاں انتخابات کے دوران پر تشدد واقعات پیش آئے جس میں دو افراد ہلاک ہوگئے ۔ جب کہ کئی ایک جگہ ای وی ایم مشین بھی خراب ہوگئے جس سے کافی گڑبڑ درج کی گئی ۔ اگر اسی طرح تلنگانہ میں بھی اسمبلی اور لوک سبھا الیکشن کا ایک ساتھ کا انعقاد ہوتا تو شاید یہاں بھی ایسے واقعات کا اعادہ ممکن تھا ۔ اس لیے کے سی آر نے قبل از وقت انتخابات منعقد کروائے جس سے کے سی آر کو کافی فائدہ ہوا اور انہیں 88 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ۔ اب کے سی آر نے 16 پارلیمانی سیٹوں پر کامیابی کے لیے موجودہ چار ایم پیز کو ٹکٹ سے محروم کرتے ہوئے نئے چہروں کو موقع دیا جس سے ٹی آر ایس کیڈر ناراض بھی ہوئے اور کئی قائدین بغاوت کرتے ہوئے کانگریس اور بی جے پی میں شامل ہوگئے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کے سی آر کا یہ داؤ انہیں کامیاب کرائے گا یا انہیں اس اقدام پر نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ ٹی آر ایس کے اہم لیڈر جتندر ریڈی کو اس بار ٹکٹ نہ دیئے جانے پر وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے اور حلقہ لوک سبھا پداپلی کے ویویک جنہیں ٹکٹ ملنے کی کافی امید تھی انہیں بھی ٹکٹ سے محروم کردیا گیا ۔ اسی طرح کھمم رکن پارلیمنٹ پی سرینواس اور محبوب آباد کے موجودہ رکن پارلیمان سیتارام نائک اور نلگنڈہ رکن پارلیمنٹ جی سکیندر کو بھی اس بار ٹکٹ سے محروم کردیا گیا ۔ اس اقدام سے کے سی آر کو فائدہ ہوگا یا نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا یہ 23 مئی کو ہی معلوم ہوگا ۔ تلنگانہ کی 17 پارلیمنٹ نشستوں کے لیے اس بار 443 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں جب کہ نظام آباد سے تاریخی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 185 امیدوار انتخابات لڑ رہے ہیں جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کو کافی مشقت کرنی پڑی اور تقریبا 35 کروڑ روپئے خرچ کرنا پڑا ۔ یہاں کے کسان برادری جو کے سی آر پر شدید برہم ہیں ان کی دختر کے کویتا جو یہاں سے لوک سبھا امیدوار ہیں کو شکست دینے کے درپے ہیں ۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ اس بار بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان یہاں کانٹے کا مقابلہ ہے ۔ اگزٹ پول سروے کے مطابق اس بار کانگریس پارٹی کو بھی 4 تا 5 نشستوں پر کامیابی ملنے کی امید ہے ۔ ظہیر آباد ، چیوڑلہ ، کھمم ، ملکاجگیری اور بھونگیر کی نشستوں پر کامیابی ملنے کی امید ہے ۔ رائے دہی کم ہونے پر کسی کو بھی فائدہ یا نقصان ہوسکتا ہے ۔۔