ٹی آر ایس کی مقبولیت سے مخالفین بوکھلاہٹ کا شکار، جناب محمد محمود علی کا بنڈلہ گوڑہ میں خطاب
حیدرآباد۔24مئی(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میںبرسراقتدار سیاسی جماعت تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کی فلاحی اسکیمات سے متاثر ہوکر عوام ٹی آرایس پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ریاست کی مثالی ترقی کا حصہ بننے کو ترجیح دے رہی ہے جبکہ مخالفین ٹی آر ایس کی بڑھتی مقبولیت سے خوفزدہ دیکھائی دے رہے ہیںاور یہی وجہہ ہے کہ ٹی آرایس کی مقبولیت سے پریشان مخالفین پارٹی قائدین پر الزام تراشی کررہے ہیں۔ نوری فنکشن ہال ‘ بنڈلہ گوڑہ میںمنعقدہ جلسہ عام کے موقع پر تلنگانہ راشٹریہ سمیتی پارٹی میںشمولیت کرنے والے نوجوانوں کا پارٹی میں استقبال کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر الحاج محمد محمو د علی ان خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد تلنگانہ ریاست کی عوام بالخصوص اقلیتی طبقات نے تلنگانہ راشٹرایہ سمیتی پر اپنے پورے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کو اقتدار سے نوازا۔ انہوں نے مزید کہاکہ اقتدار کے ایک سال میں تلنگانہ حکومت نے بھی مذہب‘ ذات پات کی سیاست سے بالاتر ہوکر کام کیا ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ تلنگانہ حکومت ہندومسلم سکھ عیسائی کے بجائے امیر او رغریب کے نظریہ پر کام کرتے ہوئے ریاست میںپسماندگی کاشکار طبقات کی ترقی کو یقینی بنانے کاکام کیا ہے۔ جناب الحا ج محمد محمودعلی نے کہاکہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے اقلیتوں کے لئے بے شمار فلاحی اسکیمات کا اعلان کیا جبکہ ایس سی‘ ایس ٹی ‘ بی سی طبقے کے لئے بھی حکومت کی فلاحی اسکیمات او رخصوصی مراعات فراہم کئے۔جناب محمد محمود علی نے حکومت تلنگانہ کی شادی مبارک اسکیم کو مسلم اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے معاشی پسماندہ خاندانوں کے لئے ایک راحت قراردیا۔ انہو ں نے کہاکہ سابق میںاجتماعی شادیوں کے نام پر مسلمانوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا جبکہ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی نے 51ہزار کی مالی امدادراست دلہن کے بینک اکاونٹ میںجمع کرانے کا وعد ہ کیا جس پر زور و شور سے عمل آوری جاری ہے۔ انہوںنے کہاکہ جس طرح تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے خواب کو مسٹر کے چندرشیکھر رائو نے شرمندہ تعبیر کیاہے اسی طرح پرانے شہر کی ترقی بھی یقینی ہے۔ جناب محمدمحمو د علی نے ٹی آر ایس پارٹی میںشمولیت اختیار کرنے والے نوجوانوں سے پارٹی کی فلاحی اسکیمات کو عوام کے گھروں تک پہنچانے کاکام کرنے کا مشورہ دیا۔