تلنگانہ کے خلاف درخواست قبل از وقت :سپریم کورٹ

نئی دہلی۔6جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) آندھراپردیش کی تقسیم کے ذریعہ نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کی تجویز کی مخالفت میں پیش کردہ ایک درخواست کو سپریم کورٹ نے آج پھر مسترد کردیا اور اسے درخواست قبل از وقت قرار دیا۔ جسٹس ایچ ایل دتو اور ایس اے بابڈے پر مشتمل ایک بنچ نے کہاکہ ’’ یہ قبل از وقت ہے ہم آندھراپردیش اسمبلی کی جانب سے قطعی فیصلہ تک اس پر غور نہیں کرسکتے ‘‘ ۔

چار ماہ قبل بھی سپریم کورٹ نے انہی بنیادوں پر قیام تلنگانہ کے خلاف دائرکردہ ایک دوسری درخواست کو مسترد کردیا تھا ۔ بنچ نے پی وی کرشنیا ایڈوکیٹ کی درخواست کوقبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ عدالت عظمی نے اُن کی درخواست پر غور کیا ہے اور آندھراپردیش ہائی کورٹ نے پہلے ہی اس درخواست کو مسترد کردیا تھا ۔ عدالت عظمی نے کہا کہ درخواست گزارکو دستبرداری کا اختیار حاصل ہے اور وہ ریاستی اسمبلی اور مرکز کی جانب سے قیام تلنگانہ کیلئے آندھراپردیش کی تقسیم کا فیصلہ کئے جانے کے بعد کسی مناسب فورم سے رجوع ہوسکتے ہیں ۔ کرشنیا نے کہا تھا کہ دیگر ریاستوں کی تقسیم کا مطالبہ بھی کیا جارہا تھا لیکن مرکز نے کسی دوسری ریاست کی تقسیم نہیں کی صرف آندھراپردیش کو تقسیم کرتے ہوئے تلنگانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔