چیف منسٹر کے سی آر کا محکمہ مال کے وزیر و اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔/5جولائی، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ چندر شیکھر راؤ نے محکمہ مال کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں سرکاری اراضیات کے سروے سے متعلق اُمور کا جائزہ لیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر مال محمد محمود علی کے ہمراہ اس اجلاس میں تلنگانہ کے تمام اراضیات کے از سرِ نو سروے کے سلسلہ میں طریقہ کار پر غور کیا گیا۔ تلنگانہ میں اراضیات کا سروے تقریباً 80سال قبل کیا گیا تھا، اس کے بعد سے کوئی سروے نہیں کیا گیا جس کے باعث اراضیات کا حقیقی موقف پتہ چلانے میں حکومت کو دشواری ہورہی ہے۔ اس سروے کے سلسلہ میں مرکزی حکومت سے 600کروڑ روپئے امداد کی درخواست کی گئی ہے۔ اراضیات کے ازسرِ نو مکمل سروے سے سرکاری اراضیات کے علاوہ بھودان، وقف اور دیگر اراضیات کی نشاندہی ہوگی۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ از سرِ نو سروے کے سلسلہ میں ایکشن پلان تیار رکھیں تاکہ مرکز سے امداد کی وصولی کے ساتھ ہی اس کام کا آغاز کیا جاسکے بعد میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے بتایا کہ محکمہ مال میں بدعنوانیوں کے خاتمہ اور عوامی خدمات میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ ریونیو عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ ہر دفتر میں ہیلپ ڈیسک قائم کیا جائے جہاں عوام کی رہنمائی کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس دورِ حکومت کے دوران محکمہ میں اصلاحات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے نتیجہ میں محکمہ کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے عہدیداروں پر واضح کردیا کہ کرپشن اور بدعنوانیوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دفتر میں بھی محکمہ مال کے دو عہدیداروں ڈپٹی کلکٹر اور آر ڈی او کو مامور کرنا چاہتے ہیں تاکہ محکمہ سے متعلق کسی بھی مسئلہ کی یکسوئی کیلئے عوام اُن سے رجوع ہوسکیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ 7 جولائی کو چیف منسٹر کی جانب سے وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں حکومت کے وعدوں پر عمل آوری اور فلاحی اسکیمات کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ماہ کے قلیل عرصہ میں ٹی آر ایس حکومت نے عوامی بھلائی کے اقدامات کی سمت پیش رفت کی ہے اور عوام بھی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اراضیات کے سروے کی تکمیل کے بعد درج فہرست قبائل میں اراضیات کی تقسیم کی اسکیم کو قطعیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غریب اقلیتوں کو بھی اراضی مختص کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ مال بالخصوص رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ میں درمیانی افراد کے رول کو ختم کرنے کیلئے سخت گیر فیصلے کئے جارہے ہیں۔