تلنگانہ کے اقلیتی تعلیمی اداروں کو اقلیتی موقف ناگزیر

حکومت ہند کی امداد و تعاون سے معیار تعلیم کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی
حیدرآباد ۔ 10 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز): حکومت تلنگانہ ریاست کے اقلیتی تعلیمی اداروں کی ترقی کے لیے انہیں اقلیتی موقف فراہم کرنے میں پس و پیش کرنے کے بجائے اگر انہیں اقلیتی موقف فراہم کرتی ہے اور قوانین کے مطابق انہیں خدمات کی انجام دہی کا موقع دیتی ہے تو ایسی صورت میں ریاست کے اقلیتی طلبہ کو معیاری تعلیم کے ساتھ کئی دیگر سہولتیں حاصل ہوسکتی ہیں ۔ ریاست بالخصوص شہر حیدرآباد و سکندرآباد میں کئی خانگی اسکول مسلم انتظامیہ کی جانب سے چلائے جاتے ہیں ۔ علاوہ ازیں چند جونیر و ڈگری کالجس بھی مسلم تنظیموں و اداروں کی جانب سے بہتر انداز میں چلائے جارہے ہیں لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے ان تعلیمی اداروں کو اقلیتی موقف کی فراہمی میں کی جانے والی کوتاہی ان تعلیمی اداروں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہورہی ہے ۔ ریاست میں چلائے جانے والے اقلیتی طبقہ کے تعلیمی اداروں کو اگر حکومت تلنگانہ فوری طور پر اقلیتی موقف کا حامل بنانے کے اقدامات کرتی ہے تو ایسی صورت میں مرکزی حکومت کی جانب سے اقلیتی موقف کے حامل تعلیمی اداروں کو حاصل سہولتیں ان تعلیمی اداروں کو ملنے لگیں گی ۔ جس سے وہ نہ صرف معیار تعلیم کو بہتر بناسکتے ہیں بلکہ اسکولوں میں مرکزی حکومت کی امداد و تعاون کے ذریعہ بہتر سے بہتر انفراسٹرکچر فراہم کرنے میں بھی کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ حکومت ہند اقلیتی موقف کے حامل تعلیمی اداروں بالخصوص اسکول و جونیر کالجس کو مالی امداد کی فراہمی کے ذریعہ انہیں مستحکم بنانے کی اسکیم رکھتی ہے لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے مسلم تنظیموں و اداروں کی جانب سے چلائے جانے والے اداروں کو بھی اقلیتی موقف کی فراہمی پر ٹال مٹول کے سبب ریاست کے خانگی اسکولس مرکزی حکومت کی اسکیمات سے مستفید ہونے سے محروم ہورہے ہیں ۔ اس کے علاوہ اگر خانگی اقلیتی اسکولوں کو اقلیتی موقف کا سرٹیفیکٹ جاری کیا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف اردو زبان کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ تعلیمی اداروں میں اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے 25 فیصد طلبہ کی مفت تعلیم کا بھی قانون حق تعلیم کے تحت انتظام کیا جاسکتا ہے ۔ بعض خانگی اسکولوں کے ذمہ داران کا ماننا ہے کہ اقلیتی موقف فراہم کئے جانے سے نہ صرف خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں کو فائدہ ہوگا بلکہ اس کے بالواسطہ فوائد اقلیتی طبقہ سے تعلق ر کھنے والے طلبہ کو بھی حاصل ہوں گے ۔ سابقہ کانگریس دور حکومت کے علاوہ اس سے قبل تلگو دیشم حکومت نے ریاست آندھرا پردیش میں اقلیتوں کی جانب سے چلائے جانے والے تعلیمی اداروں کو اقلیتی موقف فراہم کرتے ہوئے انہیں ان اسکیمات سے استفادہ حاصل کرنے کا موقعہ فراہم کیا تھا لیکن ریاست کی تقسیم کے بعد سے تعلیمی اداروں بالخصوص اسکولوں اور کالجس جو کہ ڈگری تک چلائے جاتے ہیں انہیں اقلیتی موقف کی فراہمی کا سلسلہ ترک کردیا گیا ہے جس سے کالجس و اسکولس کے ذمہ داران میں بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ حکومت تلنگانہ اقلیتوں کی معاشی ، تعلیمی و سماجی پسماندگی کو دور کرنے میں جس سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے اگر وہ فوری طور پر تعلیمی اداروں کو اقلیتی موقف کی فراہمی کے متعلق عہدیداروں کو ہدایت جاری کرتی ہے تو ایسے میں آئندہ تعلیمی سال کے آغاز تک شہر میں سینکڑوں اقلیتی موقف کے حامل اسکول ہوسکتے ہیں ۔۔