شہر اور اضلاع کے تمام مسلمان ٹی آر ایس کے ساتھ ہیں ، کے سی آر مسلمانوں کے مسیحا ، جمعیت اہلحدیث کے ذمہ داروں سے ملاقات کے بعد محمود علی کا بیان
حیدرآباد ۔ 10 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : آزادی کے بعد سے مسلمانوں کی تعلیمی و سماجی پسماندگی کا تمام سیاسی جماعتیں رونا روتی رہی ہیں ۔ تاہم مسلمانوں کے مسیحا کے سی آر نے پہلی بار مسلمانوں کی تعلیمی و سماجی پسماندگی کو دور کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار وزیر داخلہ محمود علی نے آج ریاست کی جمعیت اہلحدیث کے وفد سے ملاقات کے بعد کیا ۔ نمائندہ سیاست شاہنواز سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ٹی آر ایس حکومت بننے کے بعد مسلمانوں کی فلاح و بہبودی کے لیے 3 ہزار کروڑ روپئے جاری کیا ۔ غریب و پسماندہ لڑکیوں کے لیے شادی بیاہ کے موقع پر شادی مبارک اسکیم کے تحت ایک لاکھ 16 ہزار روپئے فراہم کئے جارہے ہیں جس سے غریب خاندانوں کو کافی راحت نصیب ہوئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خدمت انجام دینے والے ائمہ کو ماہانہ اعزازیہ 5000 روپئے دئیے جانے سے انہیں کافی مدد حاصل ہوئی ہے ۔ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے بیرون ممالک زیر تعلیم طلبہ کے لیے اوورسیز اسکالر شپ کے ذریعہ سالانہ 20 لاکھ روپئے فراہم کئے جارہے ہیں ۔ جس سے تعلیمی میدان میں مسلمان آگے بڑھ رہے ہیں ۔ ان ساری فلاحی اسکیمات کو دیکھ کر مسلمان یکجہتی کے ساتھ ٹی آر ایس پارٹی کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس مرتبہ تلنگانہ کے 17 پارلیمانی نشستوں پر ٹی آر ایس پارٹی کے امیدوار مقابلہ کررہے ہیں ۔ ان سارے امیدواروں کو مسلمانوں کی مدد حاصل ہوگی اور 16 پارلیمانی نشستوں پر ٹی آر ایس کی شاندار کامیابی حاصل کرے گی ۔ اگر اللہ چاہے تو کے سی آر وزیراعظم بن سکتے ہیں ۔ چنانچہ کے سی آر حال میں فیڈرل فرنٹ تشکیل دینے والے ہیں ۔ جس سے مرکز میں اہم رول ادا کریں گے جو غیر بی جے پی اور غیر کانگریسی پارٹیوں پر مشتمل ہوگا ۔ تلنگانہ کے مسائل اور تلنگانہ کے لیے خصوصی بل بھی پیش کریں گے ۔ اس موقع پر جمعیت اہل حدیث کے مولانا آصف عمری اور دیگر ذمہ داران شامل تھے ۔۔