پانچویں نشست پر مقابلہ کے لیے پارٹی پر دباؤ ، دو وزراء کی امیدواری یقینی
حیدرآباد ۔ 18 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : حکمران ٹی آر ایس کی 4 ایم ایل سی نشستوں پر کامیابی یقینی ہے ۔ پانچویں نشست پر مقابلہ کرنے کے لیے پارٹی پر دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ دو وزراء کو امیدوار بنانے کا تقریباً فیصلہ ہوگیا ہے ۔ کیا اس مرتبہ مسلم قائد کو امیدوار بنایاجائے گا یا پھر نظر انداز کردیا جائے گا ۔ پارٹی حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں ۔ ایم ایل اے کوٹہ سے 6 نشستوں پر ایم ایل سی نشستوں کا انتخاب ہورہا ہے ۔ اسمبلی میں عددی طاقت کے لحاظ سے 4 نشستوں پر ٹی آر ایس کی کامیابی یقینی ہے ۔ ایک نشست پر کانگریس کو کامیابی حاصل ہوگی ۔ تلگو دیشم اور بی جے پی ایک دوسرے سے اتحاد کرتے ہوئے مقابلہ کریں بھی تو کامیابی کے لیے دونوں جماعتوں کے اتحاد کو 2 ارکان اسمبلی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اس کمزوری کو دیکھتے ہوئے ٹی آر ایس قیادت پر پانچویں نشست کے لیے مقابلہ کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ تاہم اس معاملے میں صدر ٹی آر ایس و چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ہنوز کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ ٹی آر ایس ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ٹی آر ایس 20 مئی تک اپنے امیدواروں کا اعلان کردے گی ۔ اسمبلی اور کونسل دونوں ایوانوں کے رکن نہ رہنے والے مسٹر ٹی ناگیشور راؤ کو چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنی کابینہ میں شامل کیا ہے ۔ ساتھ ہی اسکام میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے مسٹر راجیا کو ڈپٹی چیف منسٹر اور وزارت کے عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا ۔ ان کی جگہ اسی طبقہ اور ضلع سے تعلق رکھنے والے ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ مسٹر کڈیم سری ہری کو کابینہ میں شامل کرتے ہوئے انہیں ڈپٹی چیف منسٹر بنایا تھا ۔ انہیں بھی دونوں ایوانوں میں کسی ایک ایوان کا رکن بناناضروری ہے ۔ لہذا مسٹر ٹی ناگیشور راؤ اور مسٹر کڈیم سری ہری کو ایم ایل سی امیدوار بنانے کے فیصلے کو تقریبا قطعیت دے دی گئی ہے ۔ ماباقی دو نشستوں کے لیے پارٹی میں دوڑ دھوپ شروع ہوگئی ہے ۔ سماج کے تمام طبقات کے قائدین چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی دعویداری پیش کررہے ہیں ۔ اچانک پھر ایکبار دیوی پرساد کا نام منظر عام پر آیا ہے ۔ واضح رہے کہ حیدرآباد ، رنگاریڈی اور محبوب نگر گرایجویٹ کوٹہ کونسل حلقہ سے مقابلہ کرتے ہوئے مسٹر دیوی پرساد شکست سے دوچار ہوئے تھے ۔ پارٹی کے چند قائدین انہیں دوبارہ ایم ایل اے کوٹہ سے ایم ایل سی منتخب کرنے کا پارٹی قیادت پر دباؤ ڈال رہے ہیں ۔ ٹی آر ایس میں پہلے سے کئی سینئیر مسلم قائدین موجود ہیں ۔ سابق وزیر مسٹر محمد فرید الدین بھی ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں کئی مسلم قائدین بھی اس مرتبہ ایم ایل اے کوٹہ سے انہیں کونسل کارکن نامزد کرنے کی چیف منسٹر سے نمائندگی کررہے ہیں اور کئی مسلم قائدین کو چیف منسٹر سے امیدیں وابستہ ہیں دیکھنا ہے چیف منسٹر سماجی انصاف کے نعرے پر کتنا کھرا اترتے ہیں ۔۔