تلنگانہ کی تعمیر نو اور کمزور طبقات کی ترقی کے لیے حکومت پابند عہد

اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات ترجیحی ایجنڈہ ، شہدائے تلنگانہ کو امداد اور خاندان کے رکن کو ملازمت : کونڈہ سریکھا
حیدرآباد۔/12جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے اس یقین کا اظہار کیا کہ گورنر کے خطبہ میں حکومت نے ریاست اور تمام طبقات کی ترقی کا جو ایجنڈہ پیش کیا ہے اس پر بہرصورت عمل کیا جائے گا۔ پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ کی تعمیر نو اور کمزور طبقات کی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے حکومت سے تعاون کریں۔ ریاستی اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر پیش کرتے ہوئے ٹی آر ایس رکن کونڈہ سریکھا نے کہا کہ حکومت تمام طبقات اور غریبوں کی تعلیمی و معاشی ترقی اور معیار زندگی بلند کرنے کے عہد کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جدوجہد گزشتہ 60برسوں سے جاری تھی جبکہ ٹی آر ایس نے 14برسوں کی طویل جدوجہد کے ذریعہ علحدہ ریاست کے حصول میں کامیابی حاصل کی۔ کونڈہ سریکھا نے کمزور طبقات اور اقلیتوں کی بھلائی کیلئے آئندہ پانچ برسوں میں ایک لاکھ کروڑ روپئے خرچ کرنے سے متعلق حکومت کے عزم کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی حکومت کے ترجیحی ایجنڈہ میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ نے اپنے وعدہ کے مطابق ایک مسلم قائد کو ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کرتے ہوئے قابل تقلید اقدام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو تعلیم اور روزگار میں 12فیصد تحفظات کے علاوہ وقف جائیدادوں کے تحفظ کے اقدامات کئے جائیں گے۔ وقف بورڈ کو مستحکم کرنے کیلئے اسے جوڈیشیل اختیارات دینے کا منصوبہ ہے۔ کونڈہ سریکھا نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت اقلیتوں کی ترقی کیلئے ہر سال بجٹ میں 1000کروڑ روپئے مختص کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی بھلائی سے متعلق حکومت کے اقدامات سے اقلیتوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں سینکڑوں نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ تلنگانہ پولٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مختلف پروگراموں کے ذریعہ احتجاج کی قیادت کی۔ انہوں نے کہا کہ سماج کے ہر طبقہ نے جدوجہد تلنگانہ میں بھرپور حصہ داری نبھائی ہے۔ کونڈہ سریکھا نے کہا کہ جس ایوان میں ’جئے تلنگانہ ‘کا نعرہ لگانے پر پابندی تھی آج اسی ایوان میں تلنگانہ اسمبلی کا اجلاس منعقد ہورہا ہے۔ یقینا یہ چندرشیکھر راؤ اور تلنگانہ عوام کی کامیابی ہے۔انہوں نے یاد دلایاکہ گذشتہ اسمبلی میں اسوقت کے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی نے ہریش راؤ سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ وہ تلنگانہ کیلئے ایک روپیہ بھی مختص نہیں کریں گے لیکن آج اسی ایوان سے سیما آندھرا قائدین کا صفایا ہوچکا ہے اور یہ ایوان تلنگانہ کا اثاثہ بن چکا ہے۔کونڈہ سریکھا نے کہا کہ انتخابی نتائج سے صاف ظاہر ہے کہ عوام نے ٹی آر ایس کی جدوجہد کے حق میں اپنا فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے گورنر کے خطاب میں سابق میں کبھی بھی تلنگانہ کا تذکرہ نہیں کیا گیا لیکن علحدہ ریاست کے حصول کے بعد اسی گورنر نے اپنے خطبہ میں میرا تلنگانہ اور میری تلنگانہ سرکار جیسے الفاظ ادا کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کے خطبہ میں حکومت نے جن وعدوں پر عمل آوری کا تیقن دیا ہے اس کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کئے جائیں گے۔ حکومت شہدائے تلنگانہ کے ارکان خاندان کو فی کس 10لاکھ روپئے امداد اور خاندان کے ایک فرد کو ملازمت فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ اس خاندان کی تعلیم اور صحت کے مسائل کی یکسوئی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تلنگانہ تحریک کے دوران جہد کاروں پر عائد کردہ مقدمات سے دستبرداری اختیار کرے گی۔ کونڈہ سریکھا نے کمزور طبقات کیلئے پانچ برسوں میں ایک لاکھ کروڑ روپئے خرچ کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 58برسوں میں آندھرائی حکمرانوں نے کمزور طبقات کو بطور ووٹ بینک استعمال کیا۔ ٹی آر ایس کے رکن ایس ستیہ نارائنا نے تحریک تشکر کی تائید کرتے ہوئے مباحث میں حصہ لیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں حکومت کے ترقیاتی منصوبہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ تعلیم، صحت، روزگار، آبپاشی اور برقی کے شعبوں میں ترقی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ تنقیدوں کے بجائے تعمیری اپوزیشن کا رول ادا کریں۔