تلنگانہ کیلئے علحدہ ہائیکورٹ کے قیام کا مطالبہ

راجیہ سبھا میں ٹی آر ایس اور کانگریس کے ارکان میں بحث
نئی دہلی ۔ 10 ۔ مارچ (پی ٹی آئی) تلنگانہ میں علحدہ ہائی کورٹ کے قیام کیلئے آج راجیہ سبھا میں کئے گئے مطالبہ پر کانگریس اور ٹی آر ایس کے مابین تلخ بحث ہوگئی۔ کے کیشو راؤ (ٹی آر ایس) نے وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ تلنگانہ کیلئے ایک علحدہ ہائیکورٹ قائم کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے آندھراپردیش اور تلنگانہ کے اضلاع میں واقع عدالتوں کے ججوں کی تعداد میں پائے جانے والے فرد کی نشاندہی بھی کی۔ فی الحال آندھراپردیش ہائیکورٹ کے دائرۂ کار میں نئی ریاست تلنگانہ شامل ہے۔ کیشو راؤ نے کہا کہ ہائیکورٹ میں آندھراپردیش کے 19 اور تلنگانہ کے صرف 6 ججس ہیں۔ اضلاع کی عدالتوں میں بھی آندھراپردیش کے 426 اور تلنگانہ کے صرف 50 ججس ہیں۔ ٹی آر ایس لیڈر نے کہا کہ تلنگانہ بار نے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے جونیئر سیول ججس کے تناسب کی نشاندہی کئے بغیر امتحانات کے شیڈول کی اجرائی کے خلاف ہڑتال کا آغاز کیا ہے۔ ان کے اس ریمارک پر کانگریس کے جی ڈی سیلم اور وی ہنمنت راؤ نے سخت تنقید کی، جس کے ساتھ ہی تلخ الفاظ کا تبادلہ ہوا ۔ ڈپٹی چیرمین پی جے کورین نے بھی اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ مسٹر کورین نے کہا کہ ’’آپ لوگ غنڈہ گردی پر اتر آئے ہیں ، یہ نامناسب رویہ ہے۔ ایوان میں اس قسم کی غنڈہ گردی پر مجھے افسوس ہے‘‘۔ مسٹر کورین نے مسٹر سیلم کو خبردار کیا کہ ایسی حرکات پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔