تلنگانہ کیساتھ برقی تقسیم میں نا انصافی عدم نمائندگی کا نتیجہ

مرکز سے کسی نے بھی ربط پیدا نہیں کیا، وزیر برقی پیوش گوئل کا بیان
حیدرآباد۔ 2 ڈسمبر (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست کے ساتھ ہونے والی برقی تقسیم میں ناانصافیوں کی شکایات اور مرکزی حکومت کی جانب سے برقی پراجیکٹس کی عدم منظوری کی شکایات پر مرکزی وزیر برقی مسٹر پیوش گوئل نے واضح طور پر یہ کہا ہے کہ حکومت تلنگانہ یا اس کے کابینی وزیر نے جس وقت منصوبہ تیار کیا جارہا تھا، مرکز سے ربط قائم نہیں کیا تھا جس کے سبب پہلے مرحلے میں جو کہ مرکزی حکومت کے ابتدائی 100 دن میں تیار کیا گیا، ریاست تلنگانہ کو کوئی برقی پراجیکٹ حاصل نہیں ہوپایا ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مرکزی حکومت کے وزراء بشمول وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران جو منصوبہ جات پیش کئے اور انہیں منظوری فراہم کرنے کی خواہش کی۔ ان میں برقی پراجیکٹس کی فہرست شامل ہے لیکن تاحال ریاست تلنگانہ میں کسی بھی برقی پراجیکٹ کے قیام کے لئے مرکزی حکومت کی منظوری حاصل نہیں ہوئی ہے۔ حکومت تلنگانہ نے 4 ہزار میگاواٹ این ٹی پی سی پاور پلانٹ اور کوئلے کی تخصیص کی درخواست مرکزی حکومت سے کی ہے، اسی طرح 500 میگاواٹ اضافی مرکزی پیداوار سے ریاست کے مقاصد کی تکمیل کے لئے جاری کرنے کی خواہش کی ہے۔ ریاستی حکومت تلنگانہ نے مرکزی حکومت کو حوالہ کردہ درخواست میں 1000 میگاواٹ سولار پارک قائم کرنے کے لئے کلیرنس دینے کی خواہش کی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں برقی قلت سے نمٹنے کے منصوبے کے متعلق چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا ادعا ہے کہ آئندہ تین برسوں کے دوران ریاست تلنگانہ برقی پیداوار میں اس حد تک ترقی کرے گی کہ ریاست میں برقی پیداوار اور طلب میں تفاوت کو دور کرتے ہوئے 24 گھنٹے برقی سربراہی یقینی بنائی جائے گی۔ ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد حکومت تلنگانہ نے ریاست کو درپیش برقی قلت سے نمٹنے کیلئے چھتیس گڑھ سے برقی خریدی کا معاہدہ کرتے ہوئے حالات کو بہتر بنانے کی کوششوں کا آغاز کیا ہے ، جبکہ حکومت کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ برقی پیداوار کے پراجیکٹس کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے مرکزی حکومت سے درخواست کی جارہی ہے اور توقع ہے کہ مرکزی حکومت اسے قبول کرے گی۔