تلنگانہ کوسری سیلم پراجکٹ میں برقی پیداوار کا حق حاصل

حیدرآباد۔3۔نومبر (سیاست نیوز) وزیر آبپاشی تلنگانہ ٹی ہریش راؤ نے آج نئی دہلی میں مرکزی وزیر آبی وسائل اوما بھارتی سے ملاقات کی اور کرشنا واٹر ٹریبونل کے حالیہ فیصلہ کے خلاف نمائندگی کی۔ کرشنا واٹر بورڈ نے حال ہی میں اپنے حکمنامہ کے ذریعہ تنلگانہ حکومت کو سری سیلم پاور پلانٹ میں برقی سربراہی روکنے کی ہدایت دی تھی۔ بورڈ کے اس فیصلہ پر حکم التواء کیلئے وزیر آبپاشی ہریش راؤ ، مرکزی وزیر آبی وسائل سے رجوع ہوئے ہیں۔ بورڈ کے کسی بھی فیصلہ کے سلسلہ میں مرکزی وزیر اپیلیٹ اتھاریٹی کے طور پر حکم التواء جاری کرنے کی مجاز ہیں۔ ہریش راؤ نے سری سیلم ذخیرہ آب میں پانی کے استعمال اور برقی کی پیداوار کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی اور شکایت کی کہ پانی کے استعمال کے سلسلہ میں آندھراپردیش حکومت تنظیم جدید بل معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ آندھراپردیش تنظیم جدید بل قانون نے تلنگانہ کو جو حقوق فراہم کئے گئے ہیں، اس کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔ سری سیلم میں تلنگانہ کو صرف تین ٹی ایم سی پانی کے استعمال سے متعلق واٹر بورڈ کے فیصلہ کو سراسر ناانصافی قرار دیتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ اس سے تلنگانہ کے جائز حقوق متاثر ہوں گے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تنظیم جدید قانون میں دیئے گئے تلنگانہ کے حقوق کے تحفظ کے اقدامات کریں۔ انہوں نے کرشنا واٹر بورڈ کے فیصلہ کو معطل رکھتے ہوئے تلنگانہ حکومت کو برقی تیاری جاری رکھنے کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے۔ اس موقع پر ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ جتیندر ریڈی ، بی بی پاٹل ، بی نرسیا گوڑ اور دوسرے موجود تھے ۔ اسی دوران کرشنا واٹر بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس مسئلہ پر اوما بھارتی سے ملاقات کی اور انہیں حقیقی صورتحال سے واقف کرایا۔ اوما بھارتی نے سکریٹری آبی وسائل کو ہدایت دی کہ وہ حکومت تلنگانہ کی شکایات کا جائزہ لیں۔ ہریش راؤ نے دہلی میں قومی آبی کمیشن کے صدرنشین اے بی پانڈین سے ملاقات کی اور کرشنا واٹر بورڈ کے حالیہ فیصلہ کے بارے میں شکایت کی۔ انہوں نے تلنگانہ کے ساتھ مناسب انصاف کا مطالبہ کیا۔ واٹر بورڈ نے 2 نومبر تک تلنگانہ کو برقی کی تیاری کے سلسلہ میں 3 ٹی ایم سی پانی کے استعمال کی ہدایت دی ، جس پر تلنگانہ حکومت نے سخت احتجاج کیا ہے۔