تلنگانہ کا بجٹ حقائق سے بعید ، ناقابل عمل : کے جانا ریڈی

مرکز سے حصول قرض ناممکن ، حکومت کو کانگریس کی تائید ، وعدوں پر عمل کا مطالبہ ، لاپرواہی پر انتباہ
حیدرآباد۔/13مارچ، ( سیاست نیوز) قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے تلنگانہ حکومت کے بجٹ برائے 2015-16کو حقائق سے بعید اور ناقابل عمل قراردیا۔ بجٹ پر اسمبلی میں مباحث کا آغاز کرتے ہوئے جانا ریڈی نے کہا کہ صرف اعداد و شمار کے اُلٹ پھیر کے ذریعہ حکومت عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ جو اعداد و شمار بجٹ میں دکھائے جارہے ہیں وہ نہ صرف حقائق سے بعید ہیں بلکہ اس کے مطابق ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے حقیقی صورتحال کو نظرانداز کرتے ہوئے بجٹ تیار کیا ہے جس سے عوامی مسائل کی یکسوئی اور ریاست کی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ حکومت کو ایک جامع حکمت عملی اور منصوبہ کے ساتھ بجٹ پر عمل آوری کی کوشش کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری سے قبل حکومت نے غور و خوض نہیں کیا جس کے نتیجہ میں ناقابل عمل اسکیمات کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ گزشتہ پانچ ماہ میں اس نے کتنا بجٹ خرچ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ اور موجودہ بجٹ میں کافی تضاد پایا جاتا ہے۔ قائد اپوزیشن نے کہا کہ عوامی توقعات پر پورا اُترنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام سے جو وعدے کئے گئے ان پر کس طرح عمل آوری کی جائے گی بجٹ میں اس کی کوئی صراحت نہیں۔ جانا ریڈی نے کہا کہ حکومت نے مرکز سے قرض اور امداد کے سلسلہ میں جو توقعات وابستہ کی ہیں ان کا حصول ممکن نہیں۔ مرکز سے 1150روپئے قرض کا حصول ممکن نہیں ہے اور اس سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے وزیر اعظم سے نمائندگی بھی بے فیض ثابت ہوگی۔ جانا ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی ترقی میں کانگریس پارٹی حکومت سے تعاون کیلئے تیار ہے اور وہ تعمیری تجاویز پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوگی تو تلنگانہ میں ایک نئی تحریک شروع ہوسکتی ہے جو حکومت کیلئے خطرہ ثابت ہوگی۔ جانا ریڈی نے برقی، آبپاشی اور دیگر شعبہ جات کو کئے گئے بھاری الاٹمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس قدر بھاری بجٹ کس طرح فراہم کرے گی اس کی وضاحت کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس کے سلسلہ میں حکومت کے پاس کوئی جامع منصوبہ نہیں۔ بجٹ کی فراہمی کے ذریعہ پراجکٹ کی تکمیل کی توقع کرنا بے فیض ہے۔ پراجکٹس کی تکمیل کیلئے ضروری ہے کہ حکومت مبسوط پالیسی اور منصوبہ کے ساتھ آگے بڑھے۔ جانا ریڈی نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ وہ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل پر توجہ دے۔