نامزد عہدیداروں کا تلنگانہ تحریک سے لاتعلق ، کانگریس ہائی کمان سے کئی قائدین کی شکایتیں
حیدرآباد ۔ 2 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ کے کئی کانگریس قائدین نے اتم کمار ریڈی کو صدر اور ملو بٹی وکرامارک کو کارگذار صدر نامزد کرنے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کانگریس ہائی کمان کو شکایت کی کہ دونوں قائدین کا علحدہ تلنگانہ تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی دونوں قائدین نے کانگریس پارٹی کے استحکام کے لیے کوئی سرگرم رول ادا کیا ہے ۔ حلقہ لوک سبھا نلگنڈہ کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مسٹر جی سکھیندر ریڈی کی قیام گاہ پر کانگریس قائدین کا اجلاس منعقد ہوا ۔ جس میں قائد اپوزیشن مسٹر کے جانا ریڈی اور ڈپٹی فلور لیڈر کونسل مسٹر محمد علی شبیر کے علاوہ دوسرے قائدین نے شرکت کی ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ضلع نلگنڈہ کی نمائندگی کرنے والے سینئیر کانگریس قائد و رکن راجیہ سبھا مسٹر پی گوردھن ریڈی کے علاوہ کوئی بھی کانگریس قائدین اتم کمار ریڈی کو صدر تلنگانہ پی سی سی بنانے پر خوش نہیں ہے ۔ کومٹ ریڈی برادرس نے سخت اعتراض کیا ہے ۔ یہاں تک قائد اپوزیشن مسٹر کے جانا ریڈی نے بھی سخت اعتراض کرتے ہوئے جنرل سکریٹری اے آئی سی سی و انچارج تلنگانہ کانگریس امور مسٹر ڈگ وجئے سنگھ سے اس کی شکایت کی ہے ۔ قائد اپوزیشن کونسل مسٹر ڈی سرینواس نے بی سی طبقہ کے قائد کو ہٹا کر اعلیٰ ذات طبقہ کے قائد کو صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نامزد کرنے پر سخت اعتراض کیا ہے ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے انہیں کانگریس ہائی کمان کے سینئیر قائدین کے بشمول پارٹی صدر مسز سونیا گاندھی سے بات چیت کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ حیدرآباد کی نمائندگی کرنے والے مسٹر وی ہنمنت راؤ ضلع کریم نگر کی نمائندگی کرنے والے سابق رکن پارلیمنٹ مسٹر پونم پربھاکر ضلع نظام آباد کی نمائندگی کرنے والے سابق رکن پارلیمنٹ مسٹر مدھو گوڑ یشکی کے علاوہ ضلع محبوب نگر کی نمائندگی کرنے والی سابق وزیر کانگریس کی رکن اسمبلی مسز ڈی کے ارونا بھی تلنگانہ پردیش کانگریس کی صدارت کی دوڑ میں شامل تھیں ۔ تاہم کانگریس ہائی کمان نے تمام قائدین کو مایوس کیا ہے ۔ سکریٹری اے آئی سی سی و رکن راجیہ سبھا مسٹر وی ہنمنت راؤ نے ریڈی طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائدین جو ایک ہی ضلع نلگنڈہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ انہیں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اور قائد اپوزیشن نامزد کرنے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بی سی طبقات اور اقلیتوں میں مایوسی پیدا ہوئی ہے ۔ کانگریس ہائی کمان کو چاہئے تھا کہ وہ اس مسئلہ پر پارٹی کے قائدین سے مشاورت کرنے کے بعد ہی قطعی فیصلہ کرے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے قائدین میں یہ احساس پیدا ہوگیا ہے کہ پارٹی کے استحکام کے لیے اور تلنگانہ تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں کو عہدوں کی تقسیم میں نظر انداز کیا گیا ہے ۔۔